23 ستمبر 2026
سراوان(ہمگام نیوز ) تازہ ترین صورتحال کے مطابق ایرانی مقبوضہ بلوچستان کے شہر سراوان کے علاقے جهادآباد، جسے مقامی طور پر ’’داب‘‘ کہا جاتا ہے، میں مسلح افراد اور قابض ایرانی سکیورٹی فورسز کے درمیان شدید جھڑپ میں سپاہ پاسداران کے ایک بریگیڈیئر جنرل سمیت دو اہلکار ہلاک جبکہ کم از کم 13 فوجی و دیگر سکیورٹی اہلکار زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔
ذرائع کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں سپاہ پاسداران کے سکینڈ برگیڈیئر جنرل حسین ظریفی، جو سراوان میں سپاہ سجاد کے آپریشنل ہیڈکوارٹر کے آپریشنل کمانڈر تھے، اور احمد ہراتی زراعتی، جو اسی آپریشنل ہیڈکوارٹر میں انٹیلی جنس کے ذمہ دار تھے، شامل ہیں۔
مقامی ذرائع اور عینی شاہدین کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ حسین ظریفی کو گردن کی مرکزی شریان اور ٹانگ میں دو گولیاں لگیں، جس کے نتیجے میں وہ ہلاک ہوئے۔ ذرائع کے مطابق ان کی لاش سراوان کے رازی اسپتال کے سرد خانے میں منتقل کی گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق جھڑپ کے دوران احمد ہراتی زراعتی بھی گولی لگنے سے ہلاک ہوئے، جبکہ کم از کم 13 دیگر فوجی اور سکیورٹی اہلکار شدید زخمی ہوئے ہیں۔
یہ جھڑپ سراوان کے جهادآباد کے علاقے میں اس وقت ہوئی جب قابض ایرانی سکیورٹی فورسز اور مسلح افراد کے درمیان مسلح تصادم ہوا۔ مقامی ذرائع کے مطابق علاقے میں جھڑپ کے دوران بھاری ہتھیاروں کا بھی استعمال کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق حالیہ ہفتوں میں ایرانی مقبوضہ بلوچستان میں جبهه مبارزین مردمی اور ایرانی فوج
و سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں میں اضافہ ہوا ہے۔
ذرائع نے کہا ہے کہ وہ واقعے کی مزید تفصیلات، ہلاک اور زخمی ہونے والوں کی تعداد اور جھڑپ کے حالات کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہے۔


