یکشنبه, مارچ 8, 2026
Homeخبریںشال: آواران اور اورماڑا سے دو نوجوان جبری لاپتہ، لواحقین کی شال...

شال: آواران اور اورماڑا سے دو نوجوان جبری لاپتہ، لواحقین کی شال میں پریس کانفرنس، بازیابی کا مطالبہ

شال (ہمگام نیوز): مقبوضہ بلوچستان کے علاقے آواران سے تعلق رکھنے والے دو نوجوان، صغیر احمد ولد غلام قادر بلوچ اور اقرار ولد جنگیان، 11 جون کی رات قابض پاکستانی فورسز کے ہاتھوں اورماڑا چیک پوسٹ سے جبری طور پر لاپتہ کیے گئے۔ واقعے کو بیس روز گزرنے کے باوجود دونوں نوجوانوں کا تاحال کوئی پتہ نہیں چل سکا۔

لاپتہ نوجوانوں کے لواحقین نے آج وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے شال میں قائم احتجاجی کیمپ میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اس جبری گمشدگی کو ریاستی ظلم قرار دیا اور کہا کہ بلوچستان میں جبری گمشدگیاں معمول بن چکی ہیں، لیکن وہ اس ظلم کے خلاف خاموش نہیں رہیں گے۔

صغیر احمد کی بہن اور اقرار بلوچ کی کزن نے کہا کہ صغیر اور اقرار کو قابض اہلکاروں نے تربت سے کراچی جاتے ہوئے ھورماڑا چیک پوسٹ پر گرفتار کرکے لاپتہ کیا۔ نہ گرفتاری کا کوئی ریکارڈ ہے، نہ عدالت میں پیشی ہوئی، اور نہ ہی کسی تھانے میں درج ہے۔ انہوں نے کہا کہ صغیر احمد ایک تعلیم یافتہ نوجوان ہیں جنہوں نے کراچی اور سرگودھا یونیورسٹی سے تعلیم مکمل کی ہے اور اب تربت میں محنت مزدوری کرتے ہیں۔ ان کے کزن اقرار بلوچ گردے کے مرض میں مبتلا ہیں اور انہیں فوری علاج کی ضرورت ہے۔

پریس کانفرنس میں یہ بھی انکشاف کیا گیا کہ صغیر احمد کو پہلے بھی 2017 میں کراچی یونیورسٹی میں امتحان دینے کے بعد قابض پاکستانی ایجنسیوں نے اغواء کیا تھا جہاں وہ ایک سال تک لاپتہ رہے اور تشدد کا نشانہ بنے۔

لواحقین نے سوال اٹھایا کہ تعلیم یافتہ اور بیمار نوجوانوں کو لاپتہ کرنا کیسا انصاف ہے؟ اور یہ کیسی ریاست ہے جہاں بندوق آئین پر غالب ہے؟ انہوں نے عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں، عدلیہ، میڈیا اور سول سوسائٹی سے مطالبہ کیا کہ اس ظلم کا نوٹس لیں اور صغیر احمد و اقرار بلوچ کی فوری بازیابی میں کردار ادا کریں۔

پریس کانفرنس کے اختتام پر اہلِ خانہ نے کہا کہ وہ اپنے پیاروں کی بازیابی تک اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے، اور صحافیوں و انسانی حقوق کے کارکنوں سے اپیل کی کہ وہ ان کی آواز بنیں۔

یہ بھی پڑھیں

فیچرز