پیراگوئے (ہمگام نیوز ) جنوبی امریکی ملک پیراگوئے میں بڑے بینک کے مالیاتی بحران نے سیاسی بھونچال پیدا کردیا۔
پارلیمنٹ نے صدر سینتیاگو پینا کا مواخذہ کرتے ہوئے انہیں عہدے سے برطرف کردیا، جبکہ چند ہی منٹ بعد حکام نے انہیں گھر میں نظر بند کردیا۔ سابق صدر پر بینک کے مالی معاملات میں مبینہ مداخلت، اختیارات کے ناجائز استعمال اور مفادات کے ٹکراؤ کے الزامات ہیں۔
خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس اور اے ایف پی کے مطابق جمعہ، 6 نومبر 2026ء کو پیراگوئے کی سینیٹ نے صدر کے مواخذے کی منظوری دی۔ ووٹنگ میں موجود تمام 44 سینیٹرز نے ان کی برطرفی کے حق میں ووٹ دیا، جبکہ ایک سینیٹر اجلاس میں شریک نہیں تھا۔
پیراگوئے کا بڑا ڈیجیٹل بینک ’یوئینو بینک‘ مالی مشکلات اور مقررہ سرمایہ جاتی تقاضے پورے نہ کرنے کے باعث مرکزی بینک کی کارروائی کی زد میں آیا۔ حکام نے 3 نومبر کو بینک کا انتظامی کنٹرول سنبھال لیا، جس کے بعد تقریباً 30 لاکھ صارفین اپنے اکاؤنٹس، بچتوں اور بینک کارڈز تک رسائی سے محروم ہوگئے۔
یہ تعداد ملک کے تقریباً 60 فیصد بالغ شہریوں کے برابر ہے۔ بینک میں سرکاری اداروں اور پنشن فنڈز کی بھی سینکڑوں ملین ڈالر کی رقوم موجود تھیں۔















