Homeخبریںقلعہ عبداللہ میں سابق افغان فورسز کے اہلکار مقامی افراد کو اغوا...

قلعہ عبداللہ میں سابق افغان فورسز کے اہلکار مقامی افراد کو اغوا کرکے بھتہ وصول کرتے ہیں۔بار ایسوسی ایشن

شال (ہمگام نیوز) اطلاع کے مطابق قلعہ عبداللہ بار ایسوسی ایشن کے صدر حمید اللہ کاکڑ ایڈووکیٹ نے ساتھی وکلا کے ہمراہ کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ضلع قلعہ عبداللہ میں امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ قلعہ عبداللہ بلوچستان کے بڑے اضلاع میں شمار ہوتا ہے، جہاں آبادی اور جغرافیائی وسعت بھی نمایاں ہے، تاہم بدامنی اور دہشت گردی کے مسلسل واقعات نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ ضلع میں فائرنگ، قتل اور اغوا جیسے سنگین واقعات معمول بنتے جا رہے ہیں، جس کے باعث شہری شدید عدم تحفظ کا شکار ہیں۔

حمید اللہ کاکڑ کا کہنا تھا کہ بیرونی علاقوں سے مسلح عناصر کو لاکر مختلف مقامات پر آباد کرنے کا سلسلہ انتہائی تشویشناک ہے۔ چند روز قبل مسلح افراد کی جانب سے ایک گاؤں پر حملہ کیا گیا، جس کے نتیجے میں قیمتی انسانی جانیں ضائع ہوئیں۔ واقعے میں جاں بحق افراد کے لواحقین گزشتہ چھ روز سے اپنے پیاروں کی میتوں کے ہمراہ سڑک پر احتجاج کر رہے ہیں، لیکن تاحال ان کے مطالبات پر مؤثر پیش رفت نہیں ہوئی۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ قلعہ عبداللہ میں سابقہ افغان فورسز کے اہلکار مقامی افراد کے شناختی کارڈ چیک کرنے کے بعد انہیں اغوا کرتے، بھتہ وصول کرتے اور قتل جیسے سنگین جرائم میں ملوث ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس صورتحال نے علاقے کے عوام میں خوف و ہراس پیدا کر رکھا ہے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت قلعہ عبداللہ میں امن و امان کی بگڑتی صورتحال پر قابو پانے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کرے، بلوچستان میں باہر سے لائے گئے غیر مقامی افراد کی آبادکاری کا سلسلہ بند کرکے انہیں واپس بھیجا جائے، جبکہ ضلع میں منشیات کی خرید و فروخت اور کاشت کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے۔

صدر بار ایسوسی ایشن نے کہا کہ علاقے میں امن کے قیام اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے پیش کیے گئے مطالبات آئین اور قانون کے مطابق ہیں۔ حکومت سے مطالبہ ہے کہ ان پر سنجیدگی سے عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو احتجاجی دھرنے کا دائرہ مزید وسیع

کیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں

فیچرز