Homeخبریںمادرِ وطن کی آزادی کی خاطر قربانی دینے والے تمام سرمچاروں کو...

مادرِ وطن کی آزادی کی خاطر قربانی دینے والے تمام سرمچاروں کو خراجِ عقیدت و تحسین: میجر گوھرام بلوچ

شال (ہمگام نیوز) بلوچستان لبریشن فرنٹ ترجمان میجر گوھرام بلوچ نے میڈیا کو جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ بی ایل ایف اپنے دیرینہ ، عظیم اور باصلاحیت  سرمچاروں شہید سیکنڈ لیفٹیننٹ رحیم بلوچ، سنگت جاسم بلوچ، کیپٹن منیر بلوچ، سنگت مشرف، سنگت شاہ نواز، سنگت گاجی خان، سنگت زبیر، سنگت عبداللہ، اور بیماری کے باعث شہید ہونے والے سرمچار محمد زمان کو ان کی بے مثال شجاعت، قوم اور مادرِ وطن کی پاسداری اور آزادی کی خاطر پیش کی جانے والی ان کی گراں قدر خدمات پر سلام اور خراجِ عقیدت پیش کرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ مادرِ وطن کی دفاع اور آزادی کے اس جاری جدوجہد میں 23 جولائی کو مند کے علاقے میں بی ایل ایف کے سرمچار تنظیمی امور کی انجام دہی کے لیے گشت پر تھے کہ راستے میں قابض فوج کی ناکہ بندی سے ان کا آمنا سامنا ہوا، جس کے بعد دشمن کے ساتھ ان کی شدید جھڑپ شروع ہوئی۔ اس جھڑپ کے دوران بہادری کی نئی داستان رقم کرتے ہوئے سیکنڈ لیفٹیننٹ رحیم بلوچ عرف عاجز بلوچ ولد داد کریم، ساکن گومازی نے اپنے دیگر ساتھیوں کو بحفاظت نکالنے کیلئے حکمت عملی کے تحت دشمن کے سامنے ڈٹ کر اسے مصروف رکھا اور انتہائی دلیری سے لڑتے ہوئے ساتھیوں کو دشمن کے حصار سے نکالا اور جامِ شہادت نوش کر کے تاریخ میں امر ہو گئے۔

ترجمان نے کہا کہ شہید سنگت عاجز بلوچ نے 2017 میں بی ایل ایف کے پلیٹ فارم سے انقلابی سفر کا آغاز کیا۔ انھوں نے ابتدائی دور میں شہری محاذ پر انٹیلی جنس پر مبنی اہم کارروائیوں میں نمایاں خدمات انجام دیئے۔ جس کے بعد 2021 میں انھوں نے پہاڑوں کی دشوار گزار اور کٹھن زندگی اپنائی۔ گومازی، تمپ، مند، دشت اور بلیدہ کے مختلف عسکری محاذوں پر اپنے اعلیٰ جنگی گر، دشمن کے کیمپوں پر قبضے اور دشمن کی پیش قدمی روکنے کی ناکہ بندیوں کی قیادت کے باعث تنظیم نے ان کی شاندار کارکردگی کے اعتراف میں انھیں سیکنڈ لیفٹیننٹ کا عہدہ تفویض کیا۔ سنگت عاجز بلوچ اپنے انتہائی نرم لہجے، شفقت اور عاجزی کی بنا پر ساتھیوں میں منفرد مقام رکھتے تھے، اسی خصوصیت کی وجہ سے انھیں عاجز کے تنظیمی نام سے پکارا گیا۔

انہوں نے کہا کہ اسی طرح، 29 جولائی کو قابض پاکستانی فوج نے مند کے پہاڑی سلسلوں میں ایک وسیع عسکری آپریشن کا آغاز کیا۔ آپریشن کے دوران قابض فوج نے کواڈ کاپٹرز کے ذریعے مارٹر گولے داغے، جن کی زد میں آ کر سنگت جاسم بلوچ عرف بابر ولد حفیظ، ساکن سورو، مند شدید زخمی ہو ئے۔ شدید زخموں اور گہری چوٹوں کے باوجود آخری سانس تک دشمن پر تیر برساتے ہوئے شہادت قبول کی اور غاصب کے سامنے سر نہ جھکانے کی اعلیٰ مثال قائم کی ہے۔ سنگت بابر بلوچ نے ایک سال قبل بی ایل ایف میں شمولیت اختیار کی تھی۔ شہری محاذ پر کامیاب کارروائیوں اور دشمن کے خلاف انٹیلیجنس سروسز کے بعد، جون 2026 میں تنظیمی فیصلے کے تحت انھیں پہاڑی محاذ پر منتقل کیا گیا، جہاں انھوں نے مختصر عرصے میں کئی اہم معرکوں میں پیش پیش رہے۔

ترجمان نے کہا کہ دشمن فوج کے خلاف حالیہ سنگین معرکوں اور کارروائی کے دوران تنظیم کے سینیئر و دیرینہ عسکری کمانڈر کیپٹن منیر بلوچ عرف خالد بلوچ ولد محمد اسحاق، ساکن بینچہ، سوراب مادرِ وطن کے دفاع کی خاطر فرنٹ لائن پر بہادری سے لڑتے ہوئے شہید ہوئے ہیں۔ شہید کیپٹن منیر بلوچ نے 2022 میں بی ایل ایف کے پلیٹ فارم سے مسلح جدوجہد کا آغاز کیا۔ ابتدائی سال شہری گوریلا نیٹ ورک میں انتہائی متحرک رہنے کے بعد، اگست 2023 میں تنظیمی پالیسی کے تحت وہ پہاڑی محاذ پر منتقل ہو گئے۔ انھوں نے سوراب، مستونگ، قلات، نوشکی، خاران اور چاغی کے دشوار گزار محاذوں پر گراں قدر خدمات انجام دیں ہیں، بالخصوص خاران اور چاغی کے آپریشنز میں دشمن کو بھاری جانی و مالی نقصان پہنچانے میں ان کا کردار کلیدی رہا ہے۔ وہ آر پی جی (RPG) لانچر کے ایک ماہر ترین آپریٹر اور بے باک جنگجو تھے۔ کیپٹن منیر بلوچ کا خاندان پہلے دن سے قومی تحریک کے لیے قربانیاں دیتا آیا ہے۔ ان کے بڑے بھائی، شہید اسرار عرف صدام بلوچ (بی ایل ایف کے شہری گوریلا) کو 2017 میں قابض فوج اور اس کے مقامی ڈیتھ اسکواڈ کے کارندوں نے سوراب میں فائرنگ کر کے شہید کر دیا تھا، اور اب اس باہمت خاندان نے اپنے دوسرے بیٹے کا لہو بھی مٹی پر نچھاور کر دیا۔ کیپٹن منیر بلوچ اپنی اعلیٰ صلاحیتوں کی بنا پر سوراب کے وسیع خطے کی تنظیمی و عسکری کمانڈ سنبھالے ہوئے تھے اور شہادت کے آخری لمحات تک فرنٹ لائن پر دشمن سے نبرد آزما رہے۔

انہوں نے کہا کہ اس قومی کاروانِ آزادی میں سنگت مشرف عرف بشام ولد نصیر، ساکن مشکے تنک نے بھی عظیم قربانی دی۔ انہوں نے سنہ 2022 میں بلوچستان لبریشن فرنٹ کے پلیٹ فارم سے باقاعدہ طور پر بلوچ قومی آزادی کی مسلح جدوجہد میں شمولیت اختیار کی۔ ابتدائی طور پر انہوں نے شہری گوریلہ محاذ پر عسکری امور میں انتہائی متحرک اور سرگرم کردار ادا کیا۔ بعد ازاں، 2025 میں تنظیمی فیصلے اور ضرورت کے تحت انہیں پہاڑی محاذ پر منتقل کیا گیا۔ حالیہ گوریلا کارروائیوں کے دوران قابض فوج کے ساتھ سامنے آنے والے ایک مسلح تصادم اور جھڑپ میں انہوں نے دشمن کا مردانہ وار مقابلہ کیا اور بہادری سے لڑتے ہوئے جامِ شہادت نوش کیا۔

تحریک کے ایک اور جانفروش، سنگت شاہ نواز عرف راہچار ولد عیسیٰ، ساکن جھاؤ لنجار نے 2025 میں بلوچستان لبریشن فرنٹ کے پلیٹ فارم سے جدوجہد آزادی کا آغاز کیا۔ ابتدائی طور پر ایک سال تک شہری محاذ پر بطور شہری گوریلہ اور سرگرم رکن قومی تحریک میں اپنی خدمات انجام دیں۔ اس دوران انہوں نے شہر میں تنظیم کی معاونت اور سیکیورٹی امور میں اہم کردار ادا کیا۔ بعد ازاں تنظیمی فیصلے کے تحت فروری 2026 میں وہ پہاڑی محاذ پر منتقل ہو گئے اور مسلح جدوجہد میں اپنا عملی حصہ ڈالا۔ پہاڑی محاذ پر تنظیمی ذمہ داریوں کی ادائیگی کے دوران قابض فوج کی جانب سے کی جانے والی ناکہ بندی اور گھیرائو کے نتیجے میں ہونے والی ایک جھڑپ میں انہوں نے دشمن کو بھاری نقصان پہنچایا اور آخری گولی تک لڑتے ہوئے شہید ہو گئے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اسی تسلسل میں، سنگت گاجی خان عرف آفتاب ولد شیر محمد، ساکن جھاؤ پتکی نے 27 اگست 2025 کو باقاعدہ طور پر بی ایل ایف میں شمولیت اختیار کی۔ شہید گاجی خان کا خاندان روز اول سے قابض فوج کے مظالم کا شکار رہا ہے۔ 5 جنوری 2015 کو پاکستانی فوج نے جھاؤ کے علاقے گزی کور میں ان کے گھر پر گن شپ ہیلی کاپٹروں سے بمباری کی، جس کے نتیجے میں ان کے بھائی سنگت درے خان شہید جبکہ ان کی والدہ اور گاجی خان خود شدید زخمی ہوئے تھے۔ اس تمام تر خاندانی و قومی درد کے باوجود انہوں نے آزادی کی جدوجہد کا راستہ چنا اور اپنی آخری سانس تک پرعزم رہے۔ وہ قابض فوج کے خلاف دفاعی محاذ پر دلیری سے ڈٹے رہے اور حالیہ پیش قدمی کو روکنے کے دوران ہونے والی شدید جھڑپ میں دشمن کو جانی و مالی نقصان دیتے ہوئے جامِ شہادت نوش کر گئے۔

ترجمان نے کہا کہ قومی تحریک کے ایک اور پرعزم سنگت زبیر عرف شاویز ولد شکاری محمد بخش، ساکن مرماسی، مشکے نے 2024 سے بطور شہری گوریلہ اور معاون قومی تحریک میں اپنی خدمات کا آغاز کیا۔ بعد ازاں، 2025 میں تنظیمی فیصلے کے تحت وہ پہاڑی محاذ پر منتقل ہو ئے، جہاں انہوں نے عسکری امور سنبھالتے ہوئے انتہائی دلیری اور اخلاص کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں سرانجام دیں۔ پہاڑی سلسلوں میں گشت کے دوران قابض فوج کے ساتھ اچانک سامنے آنے والے ایک سخت معرکے اور جھڑپ میں انہوں نے دشمن کا گھیراؤ توڑنے کی کوشش کی اور بہادری سے نبرد آزما ہوتے ہوئے شہید ہو گئے۔

انہوں نے کہا کہ تحریک کے ایک اور جانفروش، سنگت عبداللہ عرف عثمان ولد استاد مراد بخش، ساکن راغے بلوچ آباد نے 2024 میں بلوچستان لبریشن فرنٹ کے پلیٹ فارم سے جدوجہدِ آزادی کا آغاز کیا اور تنظیمی امور کو سرانجام دیتے ہوئے آزادی کی راہ میں اپنی ذمہ داریاں نہایت ایمانداری سے نبھائیں۔ اپنے دفاعی مقام کی حفاظت کے دوران قابض فوج سے ہونے والی ایک شدید جھڑپ میں انہوں نے جرات و استقامت کا مظاہرہ کیا اور شجاعت سے لڑتے ہوئے وطن کی راہ میں قربان ہو گئے۔

انہوں نے مزید کہا کہ علاوہ ازیں، تنظیم کے ایک اور مخلص سرمچار محمد زمان عرف یحییٰ ولد محمود، ساکن وارڈ نمبر 1، ببر شور، پسنی 2 اگست 2026 کو بیماری کے باعث طبعی وفات پا گئے۔ شہید سنگت محمد زمان نے 2023 میں بی ایل ایف کے پلیٹ فارم سے جدوجہد کا آغاز کیا اور ایک سال تک بطور شہری گوریلا خدمات انجام دیں۔ 2024 میں تنظیمی فیصلے کے تحت انہیں پہاڑی محاذ پر منتقل کیا گیا جہاں انہوں نے اپنی ذمہ داریاں نہایت ایمانداری اور دلیری سے نبھائیں۔

ترجمان نے کہا کہ بلوچستان لبریشن فرنٹ اپنے تمام شہیدوں اور رفقاء کی قومی خدمات اور لازوال قربانیوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے اور اس پختہ عزم کا اعادہ کرتی ہے کہ بلوچستان کی مکمل آزادی اور خودمختاری تک اس مشن کو پوری طاقت اور توانائی کے ساتھ جاری رکھا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں

فیچرز