سنندج (ہمگام نیوز) ایرانی مقبوضہ کردستان اور دیگر کرد اکثریتی علاقوں کے متعدد شہروں میں مہسا ژینا امینی کی ہلاکت کی چوتھی برسی کے موقع پر دکانداروں اور تاجروں نے کاروباری مراکز بند کرکے ہڑتال کی۔
تفصیلات کے مطابق موصولہ تصاویر اور ویڈیوز میں بانہ، مریوان، مہاباد، سنندج، بوکان، سقز، دیواندرہ اور پیرانشہر میں متعدد دکانیں اور تجارتی مراکز بند دکھائی دے رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق یہ ہڑتال کرد سیاسی جماعتوں اور تنظیموں کی جانب سے مہسا ژینا امینی کی چوتھی برسی اور 2022 میں شروع ہونے والی ’’عورت، زندگی، آزادی‘‘ تحریک کی سالگرہ کے موقع پر دی گئی اپیل کے بعد کی گئی ہے۔
مہسا ژینا امینی، جو سقز سے تعلق رکھنے والی 22 سالہ خاتون تھیں، کو 13 ستمبر 2022 کو تہران میں قابض ایرانی فورسز تشدد کرنے کے بعد حراست میں لیا تھا۔ وہ حراست کے بعد کوما میں چلی گئیں اور 16 ستمبر 2022 کو انتقال کر گئیں۔
ان کی موت کے بعد ایران کے مختلف علاقوں میں بڑے پیمانے پر احتجاج شروع ہوئے، جو بعد ازاں ’’عورت، زندگی، آزادی‘‘ کے عنوان سے ملک گیر احتجاجی تحریک میں تبدیل ہوگئے۔
رپورٹ میں بازاروں کی بندش کو تصاویر اور موصولہ اطلاعات کی بنیاد پر بیان کی
ا گیا ہے۔


