کراچی (همگام نیوز) تازہ ترین اطلاعات کے مطابق کراچی کے علاقے گلشنِ اقبال سے 5 اگست کی شب پاکستانی خفیہ اداروں اور رینجرز کے ہاتھوں جبری گمشدگی کا شکار پانچ بلوچ طلبہ بازیاب ہوکر بحفاظت گھروں کو پہنچ گئے ہیں۔
بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی کے مرکزی ترجمان نے بازیابی کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ اظہر بلوچ، غوث بخش بلوچ، شہزاد بلوچ، انیس بلوچ اور وسیم بلوچ، جنہیں 5 اگست کی شب گلشنِ اقبال کراچی سے پاکستانی فورسز، رینجرز نے جبری طور پر لاپتہ کیا تھا، بازیاب ہوکر بحفاظت اپنے گھروں کو پہنچ گئے ہیں۔
بیان میں کہا گیا کہ پانچوں طلبہ کی بحفاظت واپسی ایک مثبت پیش رفت ہے۔
تنظیم نے کہا ہے پاکستانی فورسز کے ہاتھوں جبری گمشدگی کا نشانہ بننے والے مزید دو بلوچ طالب علم خلیل بلوچ اور زبیر بلوچ تاحال زیرِ حراست ہیں اور ان کے بارے میں کوئی معلومات نہیں مل سکیں۔
بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی نے کہا کہ بلوچ طلبہ کو ہراساں کرنے اور جبری گمشدگیوں کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے، کسی بھی طالب علم کو اس طرح کی سنگین سزا کا نشانہ نہیں بنایا جانا چاہیے۔
تنظیم نے مطالبہ کیا کہ بلوچ طلبہ کو ہراساں کرنے، دھمکانے اور جبری طور پر لاپتہ کرنے کا سلسلہ فوری طور پر روکا جائے اور تمام طلبہ کو بحفاظت رہا
کیا جائے۔


