<span;>ایک رپورٹ کے مطابق کورونا وباء کے آغاز کے بعد سے اب تک ایرانی مقبوضہ بلوچستان کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے 35 سنی بلوچ عالم دین قابض ایران کے اسپتالوں میں کورونا وائرس کی بیماری کی وجہ سے ڈاکٹروں کی جانب سے علاج کیئے بغیر دم توڑ چکے ہیں۔ قابض ایران کے سرکاری و غیر سرکاری ہسپتالوں میں علی خامنہ ای کے مکرو منصوبے کے تحت بلوچ علما کرام کو کرونا کے بہانے ایک مخصوص انداز میں قتل کیا جا رہا ہے اب تک بہت سے بلوچ سنی علما کرونا وائرس کا شکار ہوچکے ہیں ان میں سے کچھ علماء جنہیں اسپتالوں میں داخل کیا گیا تھا وہ یا تو ڈاکٹروں کی عدم توجہ کی وجہ  فوت ہوگئے ہیں یا وہ مشکوک انداز میں ہسپتالوں میں کرونا علاج کے بہانے میں قتل کر دیئے گئے ہیں۔

<span;>مولوی محمد شریف دھکانی پہرہ/ ایرانشہر کے پہلے ممتاز سنی بلوچ علما میں سے ایک تھے جو کہ کرونا بیماری کی وجہ سے اسپتال میں داخل تھے جو بعد میں انتقال کرگئے تاہم مقامی ذرائعے سے اطلاع ملی ہے کہ مولوی کی حالت قدرے بہتر تھی کہ اچانک ان کے مرنے کی خبر سامنے آئی۔

<span;>نیز شستون/سروان میں بہت سے سنی بلوچ علماء اسی طرح  ہسپتالوں میں علاج کیلئے جا کر ڈاکٹروں کی عدم توجہی کی وجہ سے یا مشکوک انداز میں  وفات پاگئے ہیں ـ

<span;>سنی بلوچ مذہبی کارکنوں نے کہا ہے کہ بہت سے بلوچ علما کے کوویڈ ۔19 کا ٹیسٹ کرنے کے بعد انہیں ہسپتالوں میں بھرتی کرانے کے بعد وہ زندہ نہیں بچ سکے جتنے بھی بلوچ علما کرونا علاج کے لیئے ہسپتالوں میں داخل کرا دیئے گئے تھے ان میں سے کوئی بھی شفایاب ہوکر واپس نہیں آئے بلکہ سب کسی مشکوک انداز میں ہسپتالوں اور میڈیکل سنٹروں سرکاری اہلکاروں نے انجکشن کے ذریعے مارے ہیں ـ

<span;>ان کارکنوں نے ممتاز سنی علمائے کرام کی فوت ہونے پر سوال اٹھائے ہیں اور قابض ایران کے لئے بلوچ علماء کے ٹارگٹ کلنگ یا پھانسیاں دینے کے بعد اب کرونا بیماری کے بہانے جان سے مارنے کا ایک نیا طریقہ تلاش کر لیا ہے۔