Homeخبریںمقبوضہ بلوچستان 3 نوجوان جبری لاپتہ، دو بازیاب ہوگئے

مقبوضہ بلوچستان 3 نوجوان جبری لاپتہ، دو بازیاب ہوگئے

شال ( ہمگام نیوز ) مقبوضہ بلوچستان کے ضلع کیچ اور شال سے پاکستانی فوج نے 3 نوجوانوں کو مختلف اوقات میں جبری لاپتہ کردیا ہے، جبکہ دو جبری لاپتہ نوجوان بازیاب ہوکر گھر پہنچ گئے ہیں ۔

بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین بیان کے مطابق

 17 ستمبر 2026 کو کیچ کے علاقے عمری کن، شاپک سے 18 سالہ نائی اکرام ولد سلیم کو ڈیتھ اسکواڈ نے اس کی دکان سے جبری لاپتہ کردیا۔ اسی طرح 29 ستمبر 2026 کو مکسر دشت، کیچ سے 30 سالہ کسان داد شاہ کریم ولد کریم بخش کو فرنٹیئر کور (ایف سی) نے اس کے گھر سے حراست میں لے کر نامعلوم مقام منتقل کر دیا۔

رپورٹ کے مطابق 29 ستمبر 2026 کو مکسر دشت سے لاپتہ کیے جانے والے نوجوان علی محمد کریم ولد کریم بخش کو فورسز نے اگلے ہی دن 30 ستمبر کو دشت کے علاقے میں رہا کر دیا۔

مستونگ کے علاقے اِسپلنجی سے تعلق رکھنے والے شیر باز بنگلزئی ولد خان محمد کو 18 جولائی 2025 کو صبح 9 بجے تِیرہ میل دشت، مستونگ سے جبری طور پر لاپتہ کیے جانے کا بتایا گیا ہے۔ فراہم کردہ معلومات کے مطابق شیر باز پیشے کے اعتبار سے بس کنڈکٹر ہے اور اس گمشدگی میں ایف سی/سی ٹی ڈی پر الزام عائد کیا گیا ہے۔

دوسری جانب کوئٹہ کے کلی الماس، ایئرپورٹ روڈ کے رہائشی شعیب بلوچ ولد محمد آصف بلوچ کو 4 اگست 2026 کو لاپتہ کیا گیا تھا، جو 25 ستمبر 2026 کو جبلِ نور، کوئٹہ سے بازیاب ہو گئے۔

واضح رہے کہ بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے بیشتر کیسز ریاستی دباؤ اور خوف کے باعث بروقت رپورٹ نہیں ہو پاتے، جس کے نتیجے میں ایسے واقعات کی اطلاعات سامنے آنے میں تاخیر ہوتی ہے۔

بلوچ یکجہتی کمیٹی نے ان واقعات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں اور اقوامِ متحدہ سے مطالبہ کیا ہے کہ بلوچستان میں جاری انسانی حقوق کی شدید پامالیوں، جبری گمشدگیوں اور ماورائے عدالت قتل کے واقعات کا فوری نوٹس لیا جائے۔

یہ بھی پڑھیں

فیچرز