Homeخبریںگلزادی بلوچ کو عمر قید کی سزا غیر منصفانہ عدالتی کارروائی کا...

گلزادی بلوچ کو عمر قید کی سزا غیر منصفانہ عدالتی کارروائی کا نتیجہ ہے، بی وائی سی کا فیصلہ چیلنج کرنے کا اعلان

کوئٹہ (ہمگام نیوز) بلوچ یکجہتی کمیٹی نے اپنے کارکن گلزادی بلوچ کو کوئٹہ کی عدالت کی جانب سے عمر قید کی سزا سنائے جانے پر شدید تشویش اور تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اس فیصلے کو انصاف کے بنیادی اصولوں، آئینی ضمانتوں اور منصفانہ ٹرائل کے تقاضوں کے منافی قرار دیا ہے۔

بی وائی سی کے مطابق گلزادی بلوچ جبری گمشدگیوں کے خلاف آواز اٹھانے اور متاثرہ خاندانوں کے ساتھ جدوجہد کرنے والی انسانی حقوق کی کارکن ہیں۔ وہ اپریل 2025 سے زیرِ حراست ہیں۔ 21 ستمبر 2026 کو انہیں ایک ایسے مقدمے میں عمر قید کی سزا سنائی گئی جس کی آخری کارروائی کے دوران نہ انہیں عدالت میں پیش کیا گیا، نہ ان کے وکیل کو سنا گیا اور نہ ہی دفاع کو حتمی دلائل دینے کا موقع فراہم کیا گیا۔

بلوچ یکجہتی کمیٹی کے مطابق مقدمے کی عدالتی کارروائی میں ابتدا ہی سے سنگین قانونی بے ضابطگیاں موجود تھیں، جنہیں مختلف عدالتی مراحل پر درست کرنے کے بجائے نظر انداز کیا جاتا رہا۔

گلزادی بلوچ کے خلاف مقدمہ 2022 میں تھانہ مچھ، ضلع کچھی میں درج ہونے والی ایف آئی آر کی بنیاد پر قائم کیا گیا۔ 7 نومبر 2022 کو ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کچھی، ڈھاڈر نے پہلا فردِ جرم عائد کیا، جبکہ 9 فروری 2023 کو ایڈیشنل سیشن جج-VII کوئٹہ نے دوسرا فردِ جرم عائد کر دیا۔

ضابطۂ فوجداری کی دفعہ 227 کے تحت فردِ جرم میں ترمیم کے لیے کوئی باقاعدہ عدالتی حکم جاری نہیں کیا گیا، جس کے باعث پہلا فردِ جرم برقرار رہا اور دوسرا بھی عدالتی ریکارڈ کا حصہ بن گیا۔

مزید یہ کہ دوسرے فردِ جرم میں جائے وقوعہ تھانہ صدر کوئٹہ ظاہر کیا گیا، جبکہ اصل واقعہ تھانہ مچھ کی حدود میں پیش آیا تھا اور ایف آئی آر بھی وہیں درج ہوئی تھی۔

استغاثہ کے اہم گواہوں کے بیانات دوسرے فردِ جرم کے تحت ریکارڈ کیے گئے، لیکن 21 ستمبر کے فیصلے کے پیراگراف 5 میں عدالت نے صرف پہلے فردِ جرم کے تحت کارروائی کا ذکر کیا اور دوسرے فردِ جرم کو مکمل طور پر نظر انداز کر دیا۔ اس طرح سزا کے لیے استعمال ہونے والے شواہد اور فیصلے میں تسلیم کیے گئے فردِ جرم کے درمیان بنیادی تضاد موجود ہے۔

7 ستمبر 2026 کو وکلا کی ہڑتال کے دوران گلزادی بلوچ کو جیل سے عدالت پیش نہیں کیا گیا اور ان کے وکیل بھی موجود نہیں تھے۔ اس کے باوجود عدالت نے کارروائی جاری رکھی اور جج نے خود پولیس گواہ PW-8، ڈی ایس پی میتھا خان سے جرح کی، جو دراصل دفاع کے وکیل کا قانونی حق تھا۔

بعد ازاں عدالت نے گواہ کو دوبارہ طلب کرنے کا حکم دیا تاکہ دفاع کو جرح کا موقع مل سکے، لیکن 18 ستمبر کو اپنا ہی حکم منسوخ کرتے ہوئے گواہ کو رسمی نوعیت کا قرار دے دیا۔

تنظیم کے مطابق حیران کن امر یہ ہے کہ 21 ستمبر کے حتمی فیصلے میں اسی گواہ کی فرانزک سائنس لیبارٹری (FSL) رپورٹس، Ex.P/8-A اور Ex.P/8-B کو سزا کی بنیاد بنایا گیا۔ فیصلے کے پیراگراف 23، 38(x) اور 40 میں ان رپورٹس پر انحصار کیا گیا۔یہ واضح تضاد عدالتی کارروائی کی شفافیت اور دفاع کے حق پر سنگین سوالات اٹھاتا ہے۔

بی وائی سی کے مطابق عدالتی فیصلے میں گلزادی بلوچ کے کردار اور رویّے کے متعلق توہین آمیز اور غیر متعلقہ ریمارکس بھی دیے گئے ہیں۔ پیراگراف 8 میں انہیں ’’بدنظم، ضدی اور غیر اخلاقی‘‘ جبکہ پیراگراف 32 میں ’’ناقابلِ مفاہمت ملزمہ‘‘ قرار دیا گیا ہے۔حالانکہ عدالتی ریکارڈ کے مطابق وہ صرف اپنی وکیل مقرر کرنے کے لیے وقت مانگ رہی تھیں۔

پیراگراف 26 میں ان پر عدالت کے خلاف سوشل میڈیا مہم چلانے کا الزام بھی عائد کیا گیا، لیکن اس الزام کے حق میں کوئی سوشل میڈیا پوسٹ، سائبر کرائم رپورٹ یا فرانزک دستاویز پیش نہیں کی گئی۔ مزید یہ کہ انہیں اس الزام کا جواب دینے کا موقع بھی نہیں دیا گیا۔

کسی غیر ثابت شدہ الزام اور ملزمہ کے ذاتی رویّے کو قتل کے مقدمے میں سزا کی بنیاد بنانا انصاف کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہے۔ عدالتی فیصلے میں جرم کے ثبوت کو ملزمہ کے طرزِ عمل اور عدالت کے ساتھ ان کے رویّے سے الگ رکھنا ضروری تھا۔

18 ستمبر کو مقدمہ 21 ستمبر کے لیے دفعہ 342 ضابطۂ فوجداری کے تحت ملزمہ کا بیان ریکارڈ کرنے کے مقصد سے مقرر کیا گیا تھا۔ تاہم مقررہ روز گلزادی بلوچ کو جیل سے عدالت نہیں لایا گیا اور ان کے وکیل بھی موجود نہیں تھے۔

بی وائی سی کے مطابق مزید تشویش ناک بات یہ ہے کہ جب گلزادی بلوچ کے وکلا عدالت پہنچے تو جج موجود نہیں تھے۔ عدالتی ریڈر نے انہیں تحریری فیصلہ فراہم کیا، جس کے ذریعے انہیں اپنی مؤکلہ کی عمر قید کی سزا کا علم ہوا۔یہ محض ایک قانونی بے ضابطگی نہیں بلکہ منصفانہ ٹرائل کے بنیادی تقاضوں سے انحراف ہے۔

تنظیم کے مطابق گلزادی بلوچ کو عمر قید کی سزا بلوچ یکجہتی کمیٹی کی قیادت کے خلاف گزشتہ تین ماہ کے دوران سنائی جانے والی تیسری عمر قید کی سزا ہے۔ اس سے قبل جون 2026 میں ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور سبغت اللہ شاہ جی کو بھی عمر قید کی سزائیں سنائی گئی تھیں۔

یاد رہے کہ اقوام متحدہ کے ماہرین نے ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کی سزا کو غیر منصفانہ ٹرائل کے نتیجے میں ہونے والی انصاف کی سنگین پامالی قرار دیا تھا۔

بلوچ یکجہتی کمیٹی مطالبہ کرتی ہے کہ بلوچستان ہائی کورٹ گلزادی بلوچ کی عمر قید کی سزا اور متنازعہ فیصلے کو کالعدم قرار دے۔

1. 7، 18 اور 21 ستمبر 2026 کو ٹرائل کورٹ میں ہونے والی کارروائی اور عدالتی طرزِ عمل کا غیر جانبدارانہ جائزہ لیا جائے۔گلزادی بلوچ کی اپیل کی سماعت کھلی عدالت میں کی جائے اور انہیں ذاتی طور پر پیش ہونے کا موقع فراہم کیا جائے۔ان کے وکیل کو دفاع کا مکمل حق دیا جائے اور تمام قانونی تقاضے پورے کیے جائیں،اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر، اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندہ برائے انسانی حقوق کے محافظین، ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ہیومن رائٹس واچ سے مطالبہ کیا جاتا ہے کہ وہ اس مقدمے اور آئندہ اپیل کی کارروائی کی نگرانی کریں۔

مزید کہا کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی واضح کرتی ہے کہ کسی بھی شہری کو اس کے سیاسی، سماجی یا انسانی حقوق کے لیے آواز اٹھانے کی بنیاد پر انتقامی کارروائی کا نشانہ نہیں بنایا جانا چاہیے۔دفاع کا مؤقف سنے بغیر، گواہوں پر جرح کا حق دیے بغیر اور قانونی تقاضے پورے کیے بغیر سنائی گئی عمر قید کی سزا انصاف نہیں بلکہ

انصاف کے بنیادی اصولوں کی پامالی ہے۔

یہ بھی پڑھیں

فیچرز