ریاض/صنعا (ہمگام نیوز) یمن میں جاری کشیدگی کے دوران سعودی عرب کے تیل سے مالا مال مشرقی علاقے میں ایک ڈرون کو فضائی دفاعی نظام کے ذریعے روک کر تباہ کر دیا گیا، جبکہ یمن کے شہر عدن میں بھی دو دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف کارروائی کرنے والے سعودی قیادت میں قائم اتحادی اتحاد نے بتایا کہ اس نے سعودی عرب کے مشرقی علاقے کی فضائی حدود میں ایک ڈرون کو روک کر تباہ کیا ہے۔ یہ پیش رفت حوثی گروپ کی جانب سے جاری حملوں کے تناظر میں سامنے آئی ہے۔
یمن میں سعودی قیادت کے اتحاد اور ایران کے قریب سمجھے جانے والے حوثی گروپ کے درمیان سرحد پار جھڑپوں میں بھی شدت آ رہی ہے۔ سعودی قیادت کا اتحاد یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کی حمایت کرتا ہے، جبکہ حوثی باغیوں کا دارالحکومت صنعاء سمیت ملک کے بڑے حصے پر کنٹرول ہے۔
یہ کشیدگی ایسے وقت میں بڑھ رہی ہے جب ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی جنگ کے باعث خطے میں پہلے ہی تناؤ موجود ہے۔ اس صورت حال نے یمن کے تنازع کو بھی ایک نئے محاذ کی شکل دے دی ہے۔
دوسری جانب یمن کے شہر عدن میں دو دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ یہ شہر بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ یمنی حکومت کا مرکز ہے۔
مقامی رہائشیوں اور اے ایف پی کے ایک صحافی نے دھماکوں کی تصدیق کی، تاہم فوری طور پر ان کی نوعیت یا ممکنہ جانی و مالی نقصان کے بارے میں تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔
رپورٹ کے مطابق حوثی باغیوں نے بدھ کے روز عدن ایئرپورٹ کے بیرونی حصے کو نشانہ بنایا تھا۔ اس سے قبل گروپ نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے گزشتہ ہفتے ایک بحری اڈے اور فوجی کیمپ پر بھی حملے کیے تھے۔
یمن میں خانہ جنگی ایک بار پھر شدت اختیار کر رہی ہے اور سعودی عرب کے خلاف ڈرون حملوں کی اطلاعات کے ساتھ عدن میں دھماکوں کے واقعات نے خطے کی سکیورٹی صورت حال پر تشویش بڑھا دی ہے۔














