Homeخبریںہرمزگان میں قابض ایرانی فوجی اہلکاروں کی فائرنگ سے ایندھن بردار گاڑی...

ہرمزگان میں قابض ایرانی فوجی اہلکاروں کی فائرنگ سے ایندھن بردار گاڑی نشانہ، سوختبر روزگار اور موت کے خطرے میں گرفتار

ہرمزگان(ہمگام نیوز ) ہرمزگان کے ایک مواصلاتی راستے پر قابض ایرانی فوجی اہلکاروں کی جانب سے ایک ایندھن بردار گاڑی پر فائرنگ کی ویڈیو سامنے آئی ہے۔ واقعہ ایک بار پھر ان سوخت بروں کے خطرناک حالات کو اجاگر کرتا ہے جو روزگار کے محدود مواقع کے باعث اپنی اور اپنے خاندان کی ضروریات پوری کرنے کے لیے جان خطرے میں ڈالنے پر مجبور ہیں۔

ذرائع کے مطابق موصول ہونے والی ایک ویڈیو میں ہرمزگان کے ایک شاہراہ پر قابض فوجی اہلکاروں کو ایک گاڑی میں سوار ہو کر کئی ایندھن بردار گاڑیوں کا تعاقب کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

ویڈیو میں دکھائی دیتا ہے کہ عام لباس میں ملبوس اہلکار ایک سوختبر گاڑی کے قریب پہنچنے کے بعد اس پر فائرنگ کرتے ہیں۔ دو گولیاں گاڑی کے ٹائروں پر لگنے کے بعد تیز رفتاری سے چلنے والی گاڑی خطرناک انداز میں رک جاتی ہے۔

یہ واقعہ ان خطرات کی ایک جھلک ہے جن کا سوختبر روزانہ سامنا کرتے ہیں۔ یہ افراد معمولی آمدنی کے حصول کے لیے ایسی گاڑیوں کا رخ کرتے ہیں جن کے الٹنے، آگ لگنے یا فائرنگ کا نشانہ بننے کا خطرہ ہر وقت موجود رہتا ہے۔

سوختبری بہت سے شہریوں کے لیے محفوظ اور باقاعدہ روزگار کا انتخاب نہیں بلکہ غربت، بے روزگاری اور بلوچستان سمیت پسماندہ علاقوں میں مستقل روزگار کے مواقع کی کمی کا نتیجہ ہے۔ متعدد افراد اپنے خاندان کے اخراجات، مکان کا کرایہ، بچوں کی تعلیم اور بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے پٹرول یا ڈیزل ان راستوں پر منتقل کرتے ہیں جہاں ہر سفر ان کا آخری سفر ثابت ہوسکتا ہے۔

سوختبر صرف ٹریفک حادثات کے خطرے سے دوچار نہیں ہوتے بلکہ قابض ایرانی فوجی اور سکیورٹی اہلکاروں کی جانب سے تعاقب اور فائرنگ بھی ان کی جان کے لیے خطرہ بنتی ہے۔ آتش گیر مواد لے جانے والی گاڑی پر فائرنگ چند سیکنڈ میں گاڑی الٹنے، آگ لگنے اور اس میں سوار افراد کی ہلاکت کا سبب بن سکتی ہے، جبکہ اسی راستے سے گزرنے والے دیگر شہری بھی خطرے میں پڑ سکتے ہیں۔

گزشتہ برسوں کے دوران بلوچستان کے مختلف علاقوں میں متعدد سوختبر قابض ایرانی فوجی اہلکاروں کی فائرنگ، گاڑی الٹنے، آتش زدگی اور تعاقب کے دوران پیش آنے والے حادثات میں جانیں گنوا چکے ہیں۔ تاہم انہیں اس خطرناک کام کی طرف دھکیلنے والے حالات اب بھی برقرار ہیں۔ ایک طرف غربت اور بے روزگاری ہے اور دوسری جانب مستقل روزگار اور مناسب آمدنی کے مواقع کی کمی، جس کے باعث متعدد خاندان ایسے کام پر مجبور ہیں جس کی قیمت بعض اوقات انسانی جان کی صورت میں ادا کرنا پڑتی ہے۔

2025 میں 173 سوختبر ہلاک، 132 زخمی

اعداد و شمار کے مطابق، 2025 کے دوران مجموعی طور پر کم از کم 173 سوخت بر ہلاک اور 132 زخمی ہوئے۔

ان میں 131 افراد سڑک حادثات کے نتیجے میں ہلاک جبکہ 80 زخمی ہوئے۔

فوجی اہلکاروں کی کارروائیوں، جن میں فائرنگ، بارودی سرنگ کے دھماکے، تعاقب اور تشدد شامل ہیں، کے دوران 37 سوخت بر ہلاک اور 44 زخمی ہوئے۔

اس کے علاوہ سوخت بری کے دوران 2 افراد ڈوبنے سے ہلاک ہوئے۔ آتش زدگی کے واقعات میں 1 شخص ہلاک اور 7 زخمی ہوئے، جبکہ نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ میں 2 سوخت بر ہلاک اور 1 زخمی ہوا۔

ذرائع کے مطابق، 2025 میں کم از کم 211 سوخت بر گرفتار بھی کیے گئے۔

یہ بھی پڑھیں

فیچرز