8 اگست 2016 کا سورج بلوچستان کے لیے ایک اور خون آلود صبح لے کر آیا۔ یہ دن محض ایک دہشت گرد حملے کی تاریخ نہیں، بلکہ بلوچ تاریخ میں ایک کربناک باب کے طور پر یاد رکھا جاتا ہے۔ اس روز کوئٹہ میں پاکستانی ریاست کی مبینہ سرپرستی میں ایسی سفاکی سے وکلاء کو شہید کیا گیا، جیسے وہ کسی جنگ کے میدان میں دشمن ہوں، نہ کہ اپنے ہی ملک کے قانون دان۔
یہ واقعہ اُس وقت پیش آیا جب معروف وکیل اور بلوچستان بار ایسوسی ایشن کے صدر، بلال انور کاسی کو دن دہاڑے قتل کیا گیا۔ ان کی میت کو سول ہسپتال کوئٹہ لایا گیا، جہاں بلوچستان بھر کے وکلاء، صحافی اور سماجی کارکن جمع ہوئے۔ جیسے ہی ہسپتال کا صحن انسانی ہمدردی اور اتحاد کی علامت بننے لگا، ایک زوردار دھماکہ ہوا۔ لمحوں میں چیخیں، آگ، خون، اور افراتفری نے فضا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ 70 سے زائد وکلاء شہید ہوئے، اور درجنوں زخمی۔
اس حملے نے نہ صرف بلوچستان کی قانونی برادری کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا، بلکہ اس کے سیاسی اور قومی اثرات بھی شدید تھے۔ بلوچستان کے ذہین ترین اذہان، جو نہ صرف عدالتوں میں انصاف کے علمبردار تھے بلکہ بلوچ قومی حقوق کے محافظ بھی، ایک ہی لمحے میں مٹی تلے دفن کر دیے گئے۔
سوال یہ نہیں کہ حملہ کس نے کیا، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ حملہ کیوں اور کس کے مفاد میں تھا؟ جن وکلاء نے کئی دہائیوں سے جبری گمشدگیوں، ماورائے عدالت قتل، اور بلوچ نسل کشی کے خلاف آواز بلند کی، وہی ایک سازش کے تحت نشانہ کیوں بنے؟ ایک لمحے میں بلوچستان کو فکری، قانونی اور انسانی قیادت سے محروم کر دینا، صرف دہشت گردی کا واقعہ نہیں، یہ پوری بلوچ قوم کی اجتماعی سوچ پر حملہ تھا۔
پاکستانی ریاست نے اس واقعے کو صرف “دہشت گردی” قرار دے کر جان چھڑائی، لیکن بلوچ قوم اس سازش کو آج تک اپنے زخموں میں محسوس کرتی ہے۔ ہر شہید وکیل کے پیچھے ایک خاندان، ایک خواب، اور ایک قوم کھڑی تھی۔ اُن وکلاء نے محض قانون کے لیے نہیں، بلکہ بلوچ قومی شناخت، خودمختاری اور حقوق کے لیے قلم اور زبان اٹھائی تھی۔ ان کا قتل صرف جسموں کا خاتمہ نہیں تھا، بلکہ ایک پیغام تھا کہ جو بھی سچ بولے گا، وہ مٹایا جائے گا۔
مگر تاریخ نے یہ بھی ثابت کیا ہے کہ شہداء کی قربانیاں کبھی رائیگاں نہیں جاتیں۔ آج 8 اگست کی یاد بلوچ قومی شعور کو مزید جلا دیتی ہے۔ ہر سال اس دن کا آنا، بلوچ قوم کو یاد دلاتا ہے کہ ان کے دانشور، ان کے وکیل، ان کے بیٹے کس کس انداز سے قربان کیے گئے۔ یہ دن آنسوؤں کا دن نہیں، عزم اور بیداری کا دن ہے۔
قومیں اس وقت تک زندہ رہتی ہیں جب تک وہ اپنے شہداء کو یاد رکھتی ہیں۔ 8 اگست محض ایک تاریخ نہیں، بلکہ بلوچ قومی ضمیر کا حصہ بن چکا ہے۔ وکلاء کے خون سے لکھے گئے یہ الفاظ آج بھی بلوچستان کی فضاؤں میں گونجتے ہیں: “ہم نے انصاف کے لیے جان دی، تم اسے مت بھلانا۔”
اسی حقیقت کو سینے سے لگا کر، بلوچ قوم اپنی جدوجہدِ آزادی کو جاری رکھے ہوئے ہے۔ اور جب تک قومیں اپنی قربانیوں کی قدر کرتی ہیں، ان کے خواب کبھی مر نہیں سکتے۔















