واشنگٹن (ہمگام نیوز) امریکی محکمہ خارجہ نے جمعرات کے روز اعلان کیا کہ وہ فلسطینی اتھارٹی (PA) اور تنظیم آزادی فلسطین (PLO) کے اہلکاروں پر پابندیاں عائد کر رہا ہے۔ یہ اقدام ان افراد کو امریکہ کے سفر سے روکنے کے لیے کیا گیا ہے، جن پر الزام ہے کہ وہ مشرق وسطیٰ میں امن کوششوں کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔
امریکی محکمہ خارجہ کے ایک بیان میں کہا گیا، امریکہ کا فلسطینی اتھارٹی کے اہلکاروں کو ویزے دینے سے انکار ’’یہ اقدام امریکہ کے قومی سلامتی کے مفادات کے تحت کیا گیا ہے تاکہ ان افراد کو نتائج کا سامنا کرنا پڑے، جو اپنے وعدوں کی خلاف ورزی کرتے ہیں اور امن کے امکانات کو کمزور کرتے ہیں۔‘‘
امریکہ نے جمعرات ہی کو یہ اعلان بھی کیا کہ وہ فلسطینی اتھارٹی اور تنظیم آزادی فلسطین کے اہلکاروں کو ویزے جاری نہیں کرے گا۔ امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق یہ اقدام ان افراد کے خلاف ہے، جو اسرائیل کے ساتھ تنازعے کو بین الاقوامی سطح پر لے جانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
بیان میں کہا گیا کہ فلسطینی خود مختار انتظامیہ نے بین الاقوامی فوجداری عدالت (ICC) اور بین الاقوامی عدالت انصاف (ICJ) جیسے اداروں کے ذریعے اسرائیل کے خلاف اقدامات کیے ہیں، جو امریکہ کے قومی سلامتی کے مفادات کے خلاف ہیں۔
امریکی ویزے دینے سے انکار کا یہ فیصلہ ممکنہ طور پر فلسطینی رہنماؤں کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کو پیچیدہ بنا سکتا ہے۔















