قوموں کی تاریخ کے اوراق اٹھا
کر دیکھ لیجئے، ایک حقیقت بار بار ابھر کر سامنے آتی ہے کہ غلامی کبھی دائمی نہیں ہوتی اور نہ ہی کوئی طاقت ہمیشہ کے لئے حاکم رہ سکتی ہے وقت کا پہیہ گھومتا ہے، اور یہ پہیہ غلاموں کو حوصلہ بھی دیتا ہے اور آزادی کا موقع بھی لیکن سوال ہمیشہ یہی رہتا ہے کہ ایک محکوم قوم اپنی آزادی کیسے حاصل کرتی ہے؟ اس کا سیدھا سا جواب ہے .
بندوق، کتاب اور اپنی شناخت کو وقت کے مطابق چھپانے کی حکمت
بلوچ قوم نے ہمیشہ اپنی زمین، اپنی زبان اور اپنے تشخص کے لئے قومی غیرت کے محاذ پر لڑائیاں لڑی ہیں یہ محاذ کبھی بندوق کے ساتھ، کبھی شعور کے ساتھ، اور کبھی خاموش قربانیوں کے ساتھ قائم رہے ہیں
غلامی میں جکڑی قوم کے سامنے ہمیشہ دو راستے ہوتے ہیں: یا تو دشمن کے آگے جھک جائے اور غلامی قبول کرلے، یا پھر کم وسائل کے باوجود مزاحمت کرے۔ بلوچ قوم نے دوسرا راستہ چنا وہ جانتے ہیں کہ جنگ آسان نہیں، دشمن طاقتور ہے، لیکن خواب اور حوصلے دشمن کے ٹینکوں اور توپوں سے بڑے ہیں…….
گوریلا جنگ کا اصول سیدھا ہے:
دشمن کو سیدھی لڑائی میں نہیں ہرا سکتا، اس لئے وہ چھاپہ مار کارروائیوں سے دشمن کو تھکاتا ہے بلوچ سرمچار بھی یہی کر رہے ہیں وہ چوکیوں، قافلوں اور فوجی ٹھکانوں پر اچانک حملہ کرتے ہیں اور پھر پہاڑوں میں غائب ہو جاتے ہیں یہ (Hit and Run) یعنی مارو اور غائب ہوجاؤ کی حکمت عملی دشمن کے دل میں خوف بٹھا دیتی ہے…..
اسی حکمت عملی کی تازہ مثال 31 جنوری کو قلات میں سامنے آئی، جب بلوچ لبریشن آرمی (BLA) کے سرمچاروں نے ایک بڑی کارروائی میں 25 فوجیوں کو ہلاک کیا اور بغیر کسی نقصان کے اپنے کیمپوں تک بحفاظت واپس پہنچ گئے یہ واقعہ اس حقیقت کو مزید پختہ کرتا ہے کہ گوریلا جنگ میں سب سے بڑی طاقت اچانک حملہ اور اپنی شناخت کو چھپانا ہے دشمن کو نہ وقت کا اندازہ ہوتا ہے اور نہ حملہ آوروں کی پہچان مل پاتی ہے یہی گمنامی سرمچار کی اصل طاقت ہے………
یہ راز صرف بلوچ جنگجوؤں تک محدود نہیں تاریخ میں ویت کانگ نے امریکہ کو، افغان مجاہدین نے روس کو اور مرہٹوں نے مغل و انگریز کو اسی پالیسی سے شکست دی ایک طویل جنگ دشمن کے لئے زہرِ قاتل بن جاتی ہے۔ اس کی معیشت ٹوٹنے لگتی ہے، فوجی تھک جاتے ہیں، عوامی حمایت ختم ہوجاتی ہے اور آخرکار وہ طاقتور سلطنت جو خود کو ناقابلِ شکست سمجھتی ہے جھکنے پر مجبور ہو جاتی ہے….
لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ صرف بندوق کافی نہیں جنگ آزادی میں قلم اور شعور کی طاقت لازمی ہے بندوق دشمن کے قلعے گراتی ہے لیکن کتاب مستقبل کی بنیاد رکھتی ہے اگر بندوق دشمن کو خوف میں مبتلا کرتی ہے تو قلم قوم کے دلوں میں یقین پیدا کرتا ہے شعور کے بغیر بندوق صرف لوہے کا ایک ٹکڑا ہے، مگر جب دماغ بیدار ہوں تو یہی بندوق آزادی کی ضمانت بن جاتی ہے………..
بلوچ قوم کی جنگ دراصل دو محاذوں پر جاری ہے: ایک پہاڑوں میں سرمچاروں کا محاذ ہے جہاں شناخت چھپائے جنگجو دشمن پر حملے کرتے ہیں، دوسرا شہروں اور گاؤں میں قلم و شعور کا محاذ ہے جہاں طلبہ، شاعر اور لکھاری قوم کی روح کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ یہی امتزاج اصل طاقت ہے، یہی آزادی کی بنیاد ہے……
تاریخ نے بارہا دکھایا ہے کہ کوئی قبضہ مستقل نہیں ہوتا آج بلوچ قوم نے فیصلہ کر لیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین اور شناخت کے لئے آخری سانس تک لڑے گی دشمن کے پاس ٹینک ہیں بم ہیں، فوجی ہیں لیکن بلوچ کے پاس بندوق بھی ہے، کتاب بھی ہے اور اپنی شناخت چھپانے کی حکمت بھی
یہی امتزاج دشمن کی شکست اور آزادی کی نوید ہے…….















