Homeخبریںبلوچ خواتین پر تشدد نام نہاد اسلامی ریاست کے وجود پر طمانچہ...

بلوچ خواتین پر تشدد نام نہاد اسلامی ریاست کے وجود پر طمانچہ ہے۔ بی آرایس او

کوئٹہ(ہمگام نیوز) بلوچ ری پبلکن اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے مر کزی ترجمان حمدان بلوچ نے ایک اخباری بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ گزشتہ دن پاکستانی فورسز نے کیچ کے علاقے ہوشاپ میں چادر و چار دیواری کی تقدس کو پامال کرنے کی کوشش کی جس پر بلوچ خواتین نے احتجاج کیا جنہیں پاکستانی فورسز نے تشدد کا نشانہ بنایا، پاکستانی فورسز نے بلوچ خواتین پر تشدد کرتے ہوئے انہیں زدوخوب کرنے کی کوشش کی ، اسی دوران ایک بلوچ خاتون زامران بلوچ شدید زخمی ہوئی جبکہ پاکستانی فورسز مریم بلوچ کو اغواءکرکے اپنے ساتھ لے گئے۔ترجمان نے کہا کہ بلوچستان میں بلوچ خواتین کے ساتھ ظلم و جبر ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑتھا جا رہا ہے بلوچ خواتین کا اغواءبھی اب معمول بنتا جارہا ہے۔بلوچستان میں 1971ءجیسے حالات پیدا ہوچکے ہیں جہاں اساتذہ، خواتین، مرد،بزرگ، پروفیسرز ، دانشور سمیت کوئی بھی محفوظ نہیں ۔حمدان بلوچ نے کہا کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے پاکستانی فوج بے گناءبلوچوںکا قتل عام کر رہی ہے۔ بلوچ سرزمین کے مالک بلوچ خود ہیں جن کی مرضی و منشاءکے بغیر کسی بھی استحصالی منصوبے کی کامیابی جھوٹ ہے۔ترجمان نے مزید کہاکہ بلوچستان میں وسیع تر انسانی حقوق کی پامالیوں پر انسانی حقوق کے اداروں اور انٹر نیشنل میڈیا کی خاموشی حیران کن ہے۔

یہ بھی پڑھیں

فیچرز