ڈیرہ جات بلوچ جہد آجوئی کے سیاسی منظرنامے میں ایک کمزور سیاسی میدان رہا ہے جہاں پر ہمیشہ سے سیاست کو سمجھنے کی بجائے اس کو مشہوری اور کچھ خاندانوں نے اپنی سوچ کی نظر کیا ہے چاہے وہ تونسہ ہو ڈی جی خان شہر ہو یا راجن پور ہو۔ جب بھی بات کی جائے تو کہا جا سکتا ہے کہ یہاں کی سیاست ایک کمال کو پہنچی ہے۔ تو بس 2017 تک اس کے بعد جو بھی کیڈر پیدا ہوا اس نے ہمیشہ فیصلے نا سمجھی اور بنا کسی آنے والے وقت کو سامنے رکھ کہ لیے۔ جس کا نقصان آج دس سال بعد ایک مکمل سکوت کی شکل میں ہے اور اب پسے پردہ سیاست ناکام رہی۔ کیونکہ جو سیاست ایک دہائی کی محنت کے بعد سکوت کا شکار ہو وہ یہی اشارہ کرتی ہے کہ اس نے مکمل لاشعوری حالت میں پروان پائی جس کی حقیقی وجوہات درج ذیل ہیں جیسا کہ اول مشہور ہونے اور ڈیرہ جات کے سیاسی نظام کو یکسر بدلنے کی کوشش۔ سب سے پہلے سنگت یہاں پر کمزور ثابت ہوئے جہاں انہوں نے ان لوگوں کی شخصی حالت کو بدلنے کی خاطر محنت کا سہارا لیے بغیر کوشش کی اور سوچا کہ یہ گراونڈ خود بدل جائے گا۔ ان کو اندازہ نہ تھا کہ بنا کسی سیاسی شعور کی بنیاد رکھے ان حالات کو بدلنا ناممکن ہے۔ بالکل اس کے برعکس انہوں نے سوچا کہ یہ خطہ بھی بدل جائے گا اور لوگوں کی سوچ بھی بلوچستان کے حالات دیکھتے ہوئے۔ حالانکہ وہاں اور یہاں کی سوچ اور لوگوں کے ذاتی مفادات جدا تھے۔ دوم لوگوں کو موقع نہ دینے کی عادت اور اپنے فیصلے ان پر تھوپنے کی عادت۔ یہاں سنگت دوسری غلطی یہ کرتے ہیں کہ سیاسی میدان میں جو جتنا پرانا ہے اس کو اتنا ہی حق ہے کہ وہ اپنا فیصلہ دوسروں پر قائم کر سکے خواہ وہ غلط ہی کیونکر نہ ہو اور نئے چہروں میں اس سے کمی واقع ہوئی وجہ صرف ان کی دل عازاری تھی جس کی مثال غازی یونیورسٹی میں مسلسل تنظیمی پستی اور ایک ہی فرد کے فیصلے رہے۔ سوم، تمام تنظیموں کے عہدیداران اور ان سے جڑے لوگوں کی سیاسی کمزوری سیاسی تنظیم چاہے وہ تعلیمی میدان کی تھی یا گراونڈ کی یا ہی پبلک لیول کی عہدیداران اور سیاسی کارکنان میں رابط کی کمی ایک مسئلہ ہی رہی کہ جیسے کب کیا اور کیونکر کن اصول و ضوابط کے تحت سر انجام دینا ہے۔ چہارم بیک وقت ایک سے زیادہ تنظیموں میں شمولیت ایک ہی شخص کی ایک ہی وقت میں ڈھکے چھپے یا ظاہری طور پر مختلف پلیٹ فارمز پر کام کرنا مثلا ایک ہی شخص یکجہتی کمیٹی، بلوچ راج، کونسل اور مختلف تنظیموں سے جڑا ہونے کی وجہ سے نیا سیاسی کیڈر پیدا نہ ہو سکا اور سسٹم انہی ہاتھوں تک رک گیا جس سے دشمن ان پر مکمل زور دینے پر کامیاب رہا۔ حالانکہ سب کی راہ اور منشور جدا تھا۔ پنجم گراونڈ کو مکران سمجھنا جو حقیقی طور کوئٹہ کینٹ سے بھی زیادہ کم ظرف رہا۔ گراونڈ کو مکران سے تشبیہہ دینا یہاں کے سنگت کی سب سے بڑی غلطی تھی کیونکہ وہاں بہت عرصہ سے جنگ تھی اور یہ لوگ عیش و عشرت کے عادی جنہوں نے قبائلی جنگوں کے علاوہ جنگ نہ دیکھی اور پالیسیاں مکران کو مد نظر رکھ کر چلائی گئی۔ نتیجہ آپ کے سامنے ہے کہ تمام کام ٹھپ ہو چکے اس کی مثال غیر ضروری احتجاج تھے جنہوں نے سٹیٹ نیریٹو کو مضبوط کیا اور تنظیمی عمل پر پابندیاں نافذ کر دی گئیں۔ لہذا انسان کو اس کے حالت کے مطابق پالیسی عمل میں لانی چاہیے کہ جو کام بساک مکران میں کر رہی ہے اس کا ڈی جی میں کوئی کام نہیں وہ صرف سیاسی بگاڑ کا باعث ہو گی۔ ششم شعوری لوگوں کی آپسی انائیں اور منافقتیں مگر آپسی سیاسی اختلافات تو ہر سسٹم کا حصہ ہیں اور آزادی رائے کا حق ہر جگہ ہے پر یہاں ہر وہ شخص جس نے صرف جذباتی طور یا شعوری طور سیاست میں شمولیت حاصل کی وہ دوسرے قبائل کے لڑکے کے فیصلوں سے نالاں رہا۔ وجہ صرف ذاتی انا تھی نہ کہ کوئی سیاسی اصول اس کی کئی مثالیں موجود ہیں۔ لغاری قبائل کا بزدار کو اس وجہ سے بہتر نہ سمجھنا کہ وہ ان کے سیاسی فیصلوں کو غلط کہتے ہیں۔ لغاری کے اندر دو شاخوں کا بساک میں صرف ذات کو منوانے کی جنگ اور ایک دوسرے کہ خلاف پروپیگنڈا کر کے بساک اور بلوچ راج کو ایک غیر ضروری تنظیم سمجھنا اور اس کے کردار کو یکسر رد کرنا۔ ساتواں بنا جانچ پڑتال لوگوں کی شمولیت اور بعد میں ان کے لیے بے وجہ دفاع۔ پر سنگت سے کچھ غلطیاں یہ سرزد ہوتی ہیں کہ جس نے بھی ان کے سامنے یا سوشل میڈیا پر یہ ظاہر کیا کہ وہ قومی جدوجہد کا خواہ ہے اس پر اعتماد ظاہر کرنا اور بعد ازاں اس کی غلطیوں پر پردہ ڈال کر صرف اس وجہ سے اس کا ساتھ دینا کیونکہ وہ ان کا دوست رہا۔ اس میں درجہ اول کی دوستوں سے لے کر نئے آنے والے دوست دست بہ دست شامل ہیں چاہے وہ مسئلے ایکشن کمیٹی سے جڑے ہوں یا بلوچ راج سے یا کسی اور پلیٹ فارمز سے۔ آٹھواں رشتہ داروں کا آپسی بغض تنظیموں کے اندر شامل کیا جانا ایک ہی خاندان یا ایک ہی قبیلے کے لوگوں کی ذاتی رنجش ہمیشہ کام کرنے میں حائل رہی۔ کیونکر نہ ہوتی پرورش تو اسی ماحول میں ہوئی اور سیاسی شعور آنے کے بعد بھی اس کا اثر دیکھائی دیا۔ جس میں کئی ایک جگہ تنظیموں کی جنگ دیکھائی دی۔ جن میں مشہور زمانہ بلوچ راج اور کونسل کا مسئلہ تھا اور دونوں کو چلانے والے ایک ہی قبیلہ سے تھے۔ وجہ صرف ذاتی بغض و انائیں تھی جس کی نظر دونوں جماعتیں ہوئی اور آج دونوں کا وجود قابل ترس ہے۔ نہم سرائیکی بولنے والے بلوچوں کو مکمل طور پر سمجھے بغیر ان کے بارے رائے رکھنا۔ سرائیکی سپیکر بلوچ کو مکمل نمائندگی دی جانے میں ناکامی یونیورسٹی کی صورت میں ایک تعلیمی جماعت کا کام وہاں کی کمیونٹی کو یہ احساس دلایا جانا کہ ہم ایک ہیں۔ اگر وہ اس میں ناکام رہتی ہے تو وہ کسی درجہ بھی کامیاب نہیں اور نہ ہی کسی سیاسی پختگی میں وہ کارفرما رہی۔ سوائے دو چار لوگوں کے کروڑوں کی آبادی میں کوئی آپ کو اچھا نہ جان پایا مطلب آپ ناکام رہے۔ دہم تمام تنظیمیں آگاہی اور فکری جذبے سے دور بلوچ توار، بلوچ راج اور کونسل سب ہی ایک حد تک تو کامیاب رہی مگر سب نے اپنے مدار سے نکلنے کی کوشش نہیں کی۔ جس کی وجہ سے تینوں کو ناکامی کا سامنا رہا مطلب کہ جن دوستوں نے برادشت کیا، حالات کا سامنا کیا اور اس کے علاوہ باقی تمام بس نام کی حد تک ان میں شامل تھے اور سیاسی طور پر پختہ نہ تھے۔ تعلیمی نظام میں جن دوستوں کا فرض تھا کہ وہ پیدا کرتے ایسے سنگت جو آگے چل کر گراونڈ پر کام کرتے وہ ناکام رہی۔ گراونڈ لیول کی تنظیمیں بھی اس پروڈکٹ کو پیدا کرنے میں ناکام رہی جو آگے چل کر مزید معاملات سنبھالے اور راہ ہموار کرے سیاست کی خاطر۔ گیارواں جذباتی سیاست کی مکمل آزاد اور خود مختیار پزیرائی سب سے تکلیف اور ناسور عمل یہی تھا کہ جب جس نے چاہا جذبات میں آ کر سیاست کو اپنایا اور تمام تر وسائل جو اس کے لیے بروکار لائے گئے خواہ وہ تربیتی ہوں یا عملی کو بس اپنے جذبات تک رکھا وجہ سیاسی نا پختگی ہی رہی اور اپنے نام کی خاطر ہی رہی۔ تاکہ لوگوں سے واہ واہ حاصل ہو۔ لوگ اس کو پہچانے اور جذبات کہ ٹھنڈا ہوتے ہی تمام معاملات سے لاعلمی اور ذاتی بہانے سب سے اہم ٹھہرے۔ بات یہاں پر ان باتوں کی وجہ سے آج یہاں تک آ پہنچی کہ شعور یافتہ لوگ جو حقیقی شعور رکھتے تھے وہ برہم ہو چکے۔ اس فرسودہ سیاسی جہد سے اور جن لوگوں کے پاس کمان ہے وہ مکمل طور پر کہاں ہیں۔ کوئی علم نہیں وہ لوگ تو بس ایک بات کے قائل ہو کر رہ چکے کہ یہ خطہ ہماری میراث ہے اور ہم اس پر تمام فیصلے کرنے کا حق رکھتے ہیں۔ ہم اس خطہ اور اس کے لوگوں کو اپنی جاگیر سمجھتے ہوئے ان پر جو فیصلہ لاگو کرنا چاہے کر سکتے ہیں پر اس کے اثرات سے لاعلم ہیں اور نہیں جانتے دیر پا نتائج کیا ہوں گے۔ بس علم ہے تو یہ کہ اب یہ کام کرنا ہے کل کی کل دیکھی جائے گی۔ اے لاشعوری کہ شعور یافتہ مجسمو کیا تم نہیں جانتے کہ آنے والے حالات کیا ہیں۔ کیا تم سیاسی طور عہدیداران ہو کر یہ سمجھنے سے قاصر ہو کہ کل جب حالات میں بدلاو پیدا ہو گا تو تم لوگ کتنے لوگوں کے اس بے شعوری کے ذمہ دار ہوں گے۔ اور اس بات پر میرا اشارہ ایک نامور سٹوڈنٹ تنظیم کی موجودہ لیڈر شپ کی طرف ہے کہ جن کہ چند نہ گفتہ بہ فیصلوں کی نظر کچھ کم عمر لوگ ہو چکے۔ ڈیرہ جات میں شعور کے نام پر ہمیشہ یہ بات بیچی گئی کہ ہم جو کر رہے وہ ہم کو اوپر سے کہا گیا ہے۔ اب سوال ان اوپر والوں کی طرف پیدا ہوتا ہے کہ کیا تم اس لحاظ سے آنکھیں کھو چکے ہو جن بچوں کو ابھی یونیورسٹیوں تک جا کر شعور کی حقیقی منزل طے کرنا ہے وہ اس کم عمری میں تھریٹ کیے جا رہے ہیں۔ تنظیمیوں کی ساکھ تباہ کی جا رہی ہے تو تم لوگ کہاں تھے؟ علمبرداروں کی وہ جماعتیں کہ جو ٹھیکیدار بن چکی ہیں کیا وہ اندھی ہیں۔ ڈیرہ جات میں جو شعور یافتہ طبقہ 2017 تک کام سنبھالتا رہا اس نے ایک خوبی ظاہر کی کہ لوگوں کو آگئے لائے ان کے دماغوں کو پڑھ کر ان کی نوعیت کے عین مطابق ان کو کام دیئے اور کام کو ہمیشہ ایک نارمل سطح تک رکھا۔ جس میں کینسر کے خلاف آگاہی، تعلیم کے لیے لوگوں کے مسائل کے لیے بات کی اور ہر تنظیم اپنے مدار کی حدود تک کام کرتی رہی کیونکہ وہ جانتے تھے کہ اگر بات مدار سے باہر جائے گی تو مسائل مزید ایسے ہوں گے کہ تم کام کرنے تک کہ قابل نہ رہ پاو گے اور جب یہ بات سمجھائی جاتی تو ایک مشہور فقرہ سننے کو ملتا ان سنگتوں کی زبانی جو فقط جذباتی آتش فشاں تھے کہ ” لغور اور ڈرپوک کبھی سیاسی منزلیں نہیں پاتے “۔ اور آج وہی طبقہ جب ان کے ہاتھ قیادت سنبھالنے کو دیئے گئے تو ان کی رہی سہی بنیادوں کو ہلا چکے ہیں اور وہ عمارت جو کئی سالوں میں بنی اس کو ذاتی انا کی خاطر تہہ و بالا کر دیا۔ خاندانی رنجش قبائلی تعصب منافقت کا آج یہ نتیجہ نکلا کہ ڈیرہ جات اب ایک خاموش سرد مردہ لاش کی طرح آخری سانس لے رہا اور سیاست ہوٹلوں کے چائے کے پیالوں تک رہ گئی ۔ اور سیاسی دوست پوری رات کو جاگنے کے بعد سارا دن سو کر جب اٹھتے ہیں تو بات ان کے منہ سے یہی سننے کو ملتی ہے کہ ہم نے کیا کیا نہ کیا تو تم لوگوں نے تباہ کیا۔ اس خطہ پر کی گئی تمام محنتوں اور ہمارے سامنے ایک مردہ لاش رکھ دی گئی۔ تمام سیاسی تنظیمیں جن کے کارکن ڈیرہ جات میں کام کر رہے ہیں مہربانی فرما کر اپنے یہاں کے موجودہ عہدیداران سے ہٹ کر خود اس چیز کی نگرانی کریں کہ آیا پچھلے پانچ سال کا حاصل و لا حاصل کیا رہا اور انفرادی طور پر کس نے کس کو کتنا تباہ کیا۔















