تہران (ہمگام نیوز) اطلاعات کے مطابق، اقلیم کردستان عراق کے ایک کُرد شہری، جس کا نام کاروان بتایا گیا ہے، عمر تقریباً 45 سال، اور تعلق ضلع سیدصادق کے گاؤں شانہدر سے ہے، کو تہران میں ایرانی قابض اہلکاروں نے گرفتار کرکے چار ماہ تک حراست اور تشدد کا نشانہ بنایا۔
یہ گرفتاری 5 تیر 1404 کو اُس وقت عمل میں آئی جب ایران اور اسرائیل کے درمیان 12 روزہ جنگ ختم ہوئی تھی۔ ایرانی انٹیلیجنس کے اہلکاروں نے بغیر کسی عدالتی حکم یا وضاحت کے کاروان کو حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کردیا۔
ذرائع کے مطابق، دورانِ حراست کاروان کو شدید جسمانی و ذہنی اذیت دی گئی اور تفتیش کاروں نے اُسے اسرائیل کے لیے “جاسوسی کے اعتراف” پر مجبور کرنے کی کوشش کی۔ کاروان کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ اُس کا کسی سیاسی سرگرمی سے کوئی تعلق نہیں تھا اور وہ صرف طبی و حفظانِ صحت کے سامان کی خریداری کے لیے تہران گیا تھا۔
پندرہ دن تک لاپتہ رہنے کے بعد، کاروان نے ایک واقف کار کے ذریعے اپنے خاندان کو اپنی گرفتاری کی اطلاع دی۔ اس کے بھائی نے تہران کا سفر کیا اور طویل کوششوں کے بعد اُس سے مختصر ملاقات کرنے میں کامیاب ہوا۔
چار ماہ کی قید اور اذیت کے بعد، کاروان کو حال ہی میں رہا کر دیا گیا اور وہ اقلیم کردستان واپس پہنچ گیا ہے۔ اُس نے سوشل میڈیا پر جاری ایک ویڈیو میں اپنی گرفتاری اور تشدد کی تفصیلات بیان کی ہیں۔
قابض ایرانی سیکیورٹی یا عدالتی اداروں کی جانب سے اس گرفتاری پر کوئی وضاحت نہیں دی گئی۔ یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب حالیہ برسوں میں اقلیم کردستان اور بلوچستان کے شہریوں کو “جاسوسی” جیسے سیاسی و سلامتی الزامات کے تحت گرفتار کرنے کے واقعات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔















