شنبه, مارچ 7, 2026
Homeخبریںشال: نسرینہ بلوچ کی مبینہ جبری گمشدگی کے خلاف اہلِ خانہ کی...

شال: نسرینہ بلوچ کی مبینہ جبری گمشدگی کے خلاف اہلِ خانہ کی پریس کانفرنس، ایف آئی آر درج کی جارہی ہے نہ منظرعام پر لایا جا رہا، اہلخانہ کا اس کرب سے نجات کی اپیل

شال (ہمگام نیوز) جبری گمشدہ افراد کے اہلِ خانہ نے وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے احتجاجی کیمپ میں تنظیم کے چیرمین نصراللہ بلوچ کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے 17 سالہ نسرینہ بلوچ کی مبینہ جبری گمشدگی پر شدید تشویش کا اظہار کیا اور صحافیوں، انسانی حقوق کی تنظیموں اور عوام سے اپیل کی کہ وہ اس معاملے پر خاموشی توڑیں۔

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اہلِ خانہ نے بتایا کہ 22 نومبر کی شب حب چوکی میں رات تقریباً 11 بجے ایف سی، سی ٹی ڈی اور دیگر سادہ لباس میں ملبوس مسلح افراد زبردستی ان کے گھر میں داخل ہوئے، گھر میں توڑ پھوڑ کی اور 17 سالہ نسرینہ بلوچ کو اپنے ساتھ لے گئے۔ اہلِ خانہ کے مطابق جاتے ہوئے انہیں دھمکیاں دی گئیں کہ اگر اس واقعے کے بارے میں کسی کو آگاہ کیا گیا تو سنگین نتائج بھگتنا ہوں گے۔

اہلِ خانہ کا کہنا تھا کہ واقعے کے بعد انصاف کی تلاش میں تمام متعلقہ اداروں اور اعلیٰ حکام سے رجوع کیا گیا، حتیٰ کہ سی ٹی ڈی کے دفتر بھی گئے، جہاں یہ یقین دہانی کرائی گئی کہ کچھ تفتیش کے بعد نسرینہ کو رہا کر دیا جائے گا۔ تاہم ایک ماہ سے زائد عرصہ گزر جانے کے باوجود نہ تو اغوا کی ایف آئی آر درج کی جا رہی ہے اور نہ ہی نسرینہ بلوچ کے بارے میں کوئی معلومات فراہم کی جا رہی ہیں۔

پریس کانفرنس میں اہلِ خانہ نے کہا کہ وہ شدید ذہنی اذیت اور کرب کا شکار ہیں اور انہیں یہ تک معلوم نہیں کہ نسرینہ زندہ ہے یا نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ خواتین کی جبری گمشدگیاں نہ صرف متاثرہ خاندان بلکہ پورے معاشرے کے لیے ایک خطرناک رجحان ہیں، جسے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

انہوں نے واضح مطالبہ کیا کہ اگر نسرینہ بلوچ پر کسی قسم کا الزام ہے تو اسے آئین و قانون کے مطابق عدالت میں پیش کیا جائے، لیکن کسی کم عمر لڑکی کو اس طرح جبری گمشدگی کا نشانہ بنانا نہ آئینی ہے، نہ اخلاقی اور نہ ہی انسانی اقدار کے مطابق۔

اہلِ خانہ نے صحافیوں، انسانی حقوق کی تنظیموں اور عوام سے اپیل کی کہ وہ نسرینہ بلوچ سمیت تمام جبری گمشدہ افراد کی بازیابی کے لیے آواز بلند کریں۔ انہوں نے اعلان کیا کہ اس ہفتے ماما قدیر کے کیمپ میں احتجاج جاری رکھا جائے گا اور جلد اسی کیمپ سے ایک باقاعدہ احتجاجی پروگرام کا اعلان کیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں

فیچرز