برلن (ہمگام نیوز) کوئٹہ کی انسداد دہشت گردی عدالت کی جانب سے بلوچ یکجہتی کمیٹی (BYC) کے رہنماؤں ڈاکٹر مہرنگ بلوچ اور صبغت اللہ شاہ جی کو عمر قید کی سزا سنائے جانے کے خلاف جرمنی کے شہر کولون میں بلوچ ڈائسپورا نے ایک پرامن احتجاجی مظاہرہ کیا اور عالمی برادری سے فوری مداخلت کی اپیل کی۔

تفصیلات کے مطابق 11 جولائی کو کولون سینٹرل ریلوے اسٹیشن کے سامنے منعقد ہونے والے اس احتجاج میں بلوچ کمیونٹی کے افراد، انسانی حقوق کے کارکنوں اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔ مظاہرین نے بینرز، پلے کارڈز اور ڈاکٹر مہرنگ بلوچ و صبغت اللہ شاہ جی کی تصاویر اٹھا رکھی تھیں، جبکہ انہوں نے بلوچستان میں انسانی حقوق کی صورت حال، جبری گمشدگیوں اور سیاسی کارکنوں کے خلاف جاری کارروائیوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔

 

احتجاج کے شرکاء نے جرمن زبان میں معلوماتی پمفلٹس بھی تقسیم کیے تاکہ مقامی شہریوں اور مسافروں کو بلوچستان میں شہری آزادیوں پر بڑھتی ہوئی پابندیوں، اختلافی آوازوں کے خلاف کارروائیوں اور بلوچ یکجہتی کمیٹی کے رہنماؤں و کارکنوں کو نشانہ بنانے کے حوالے سے آگاہ کیا جا سکے۔

 

مظاہرے سے اشفاق بلوچ، بانک وشمہ بلوچ، بشیر بلوچ اور مجیب عبداللہ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انسداد دہشت گردی عدالت کا فیصلہ انسانی حقوق کے کارکنوں کو خاموش کرانے، اختلاف رائے کو دبانے اور جبری گمشدگیوں و ماورائے عدالت قتل کے خلاف آواز بلند کرنے والوں کو خوفزدہ کرنے کی ایک کوشش ہے۔ مقررین نے مطالبہ کیا کہ پرامن سیاسی سرگرمیوں کو دہشت گردی کے مقدمات سے جوڑنے کا سلسلہ بند کیا جائے اور بنیادی انسانی حقوق کا احترام یقینی بنایا جائے۔

 

احتجاج کی نظامت نوید بلوچ نے کی۔ انہوں نے یورپی یونین، جرمن حکومت، اقوام متحدہ اور عالمی انسانی حقوق کے اداروں سے مطالبہ کیا کہ وہ اس معاملے کا فوری نوٹس لیں، پاکستان پر بین الاقوامی انسانی حقوق کی ذمہ داریوں کی پاسداری کے لیے دباؤ ڈالیں اور پرامن سیاسی کارکنوں کے خلاف انسداد دہشت گردی کے قوانین کے مبینہ غلط استعمال کو روکنے کے لیے مؤثر کردار ادا کریں۔

 

مظاہرے کے اختتام پر بلوچ ڈائسپورا نے ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کرتے ہوئے ڈاکٹر مہرنگ بلوچ، صبغت اللہ شاہ جی اور بلوچ یکجہتی کمیٹی کے دیگر گرفتار رہنماؤں اور کارکنوں کی فوری اور غیر مشروط رہائی کا مطالبہ کیا۔

 

واضح رہے کہ اس فیصلے پر متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہا کہ ڈاکٹر مہرنگ بلوچ اور صبغت اللہ شاہ جی کو سنائی گئی عمر قید کی سزا منصفانہ ٹرائل کے حق کی نفی ہے اور پاکستان کے انسداد دہشت گردی قوانین کو پرامن اختلافِ رائے کو دبانے کے لیے استعمال کیے جانے پر سنگین سوالات اٹھاتی ہے۔ تنظیم کے مطابق مقدمے کی کارروائی جیل کے اندر محدود رسائی کے ساتھ چلائی گئی، جہاں شفاف عدالتی کارروائی اور منصفانہ سماعت کے بین الاقوامی اصولوں پر سنگین خدشات سامنے آئے، جبکہ دونوں رہنماؤں کو مبینہ تشدد سے براہ راست جوڑنے والا کوئی واضح ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔ ایمنسٹی نے ان کی فوری رہائی اور انسانی حقوق کی سرگرمیوں سے متعلق تمام مقدمات ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

 

اسی طرح دیگر بین الاقوامی انسانی حقوق کے اداروں اور ماہرین نے بھی مقدمے کی شفافیت، قانونی تقاضوں اور منصفانہ سماعت کے معیار پر سوالات اٹھاتے ہوئے پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنے بین الاقوامی انسانی حقوق کے وعدوں کی پاسداری کرے، انسانی حقوق کے محافظوں کے تحفظ کو یقینی بنائے اور انہیں آزادانہ اور پرامن سرگرمیاں جاری رکھنے کا حق فراہم کرے۔