کوئٹہ (بلوچستان) پاکستان کی انسدادِ دہشت گردی عدالت (ATC) کی جانب سے ڈاکٹر ماہرنگ بلوچ اور سبغت اللہ شاہ جی کو سنائی گئی عمر قید کی سخت سزاؤں کے خلاف ہفتہ، 11 جولائی کو جرمنی میں ایک احتجاجی مظاہرہ کیا جائے گا۔ — بلوچ ڈائسپورا جرمنی
جرمنی میں مقیم بلوچ ڈائسپورا نے اعلان کیا ہے کہ وہ 11 جولائی بروزِ ہفتہ، جرمنی کے شہر کولون کے سنٹرل اسٹیشن کے سامنے میں ایک پرامن احتجاجی مظاہرہ منعقد کرے گی۔ چونک پہلے اس مظاہرے کا اعلان جرمنی کے شہر ہنوفر کیا گیا تھا تاہم، پولیس کی اجازت کے تقاضوں کی پیش نظر، احتجاج اب جرمنی کے شہر کولن (کولون) میں میں ہوگا۔
بلوچ ڈائسپورا کا کہنا ہے یہ احتجاج انسدادِ دہشت گردی عدالت ،کوئٹہ کے اس فیصلے کے خلاف کیا جا رہا ہے جس میں بلوچ انسانی حقوق کی کارکن ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور سبغت اللہ شاہ جی کو عمر قید کی سزا سنائی گئی ہے۔
احتجاج کے منتظمین کا کہنا ہے کہ وہ اس عدالتی فیصلے کو انصاف، آئین اور بنیادی انسانی حقوق کے اصولوں کے منافی سمجھتے ہیں۔ یہ فیصلہ بلوچ سیاسی اور انسانی حقوق کے کارکنوں کے خلاف جاری کریک ڈاؤن کا حصہ ہے، جس کے ذریعے اختلافِ رائے رکھنے والی آوازوں کو دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
منتظمین کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور سبغت اللہ شاہ جی طویل عرصے سے بلوچ عوام کے بنیادی انسانی حقوق، جبری گمشدگیوں کے خاتمے، ماورائے عدالت قتل کے خلاف آواز بلند کرتے رہے ہیں۔ ان کے مطابق، ایسے کارکنوں کو دہشت گردی کے مقدمات میں ملوث کرنا اور عمر قید کی سزا دینا انصاف کے تقاضوں اور منصفانہ عدالتی کارروائی کے اصولوں کے خلاف ہے۔
منتظمین نے جرمنی میں مقیم بلوچ عوام، انسانی حقوق کے کارکنوں، سول سوسائٹی، صحافیوں اور انصاف پسند افراد سے اپیل کی ہے کہ وہ اس پرامن احتجاج میں بھرپور شرکت کرکے انصاف، انسانی حقوق اور قانون کی بالادستی کے حق میں اپنی آواز بلند کریں۔















