لندن (ہمگام نیوز) فری بلوچستان موومنٹ کے ترجمان نے جارہ کردہ بیان میں کہا ہے کہ بلوچ قوم امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف اس جرت مندانہ فیصلے کو خیر مقدم کرتی ہے جو انھوں نے خطے میں امن و انصاف کے قیام کے لیے اٹھایا ہے۔

فری بلوچستان موومنٹ، بلوچ قوم کی نمائندگی کرتے ہوئے، خطے میں جاری کشیدہ صورتحال کے تناظر میں اپنا واضح اور دوٹوک مؤقف پیش کرتی رہی ہے۔ یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن، انصاف اور استحکام کا قیام اس وقت تک ممکن نہیں جب تک خطے میں ایرانی جبر، توسیع پسندی اور استحصالی پالیسیوں کا خاتمہ نہیں کیا جاتا۔

قابض ایران نے 1920 کی دہائی میں تاریخی طور پر خطے میں موجود اقوام اور ان کی آزاد ریاستوں پر قبضہ کیا، تب سے لے کر آج تک بلوچ، کرد، آہوازی عرب، آذری ترک اور ترکمان و دیگر اقوام کو مسلسل سیاسی، ثقافتی اور معاشی جبر کا سامنا ہے۔ ایران کے ہاتھوں ان اقوام کے خلاف انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں، جبری گمشدگیاں، ماورائے عدالت قتل، نسل کشی جیسے اقدامات ایک طویل انسانی بحران کی نشاندہی کرتے ہیں جسے مزید نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

ہم اس امر کو نہایت شدت سے اجاگر کرتے ہیں کہ ایران کی پالیسیوں کے نتیجے میں خطے میں پراکسی گروہوں اور غیر ریاستی عناصر کے ذریعے عدم استحکام و دہشتگردی کو فروغ دیا گیا، جس کے اثرات مشرقِ وسطیٰ سے لے کر عالمی سطح تک محسوس کیے گئے ہیں۔ یہ عناصر خطے میں کشیدگی اور بدامنی کو بڑھانے کا سبب بنے ہیں، اور اس طرزِ عمل نے اسرائیل، یورپ، امریکہ اور ان کے اتحادیوں سمیت خطے کے متعدد ممالک کی سلامتی کو متاثر کیا ہے۔ اس توسع پسندانہ پالیسی کا خاتمہ اور ذمہ دارانہ طرزِ عمل کا فروغ خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے ناگزیر ہے۔

اس نازک اور فیصلہ کن مرحلے پر، ہم ان تمام محکوم اور مظلوم اقوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں جو ایران کے خلاف اپنے بنیادی حقوق، شناخت اور سیاسی خودمختاری و مکمل آزادی کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ ہم عالمی برادری، بالخصوص امریکہ، اسرائیل، مغربی ممالک اور دیگر قوتوں کے ان اقدامات کو سراہتے ہیں جو انہوں نے اس صورتحال کے تناظر میں اٹھائے ہیں، اور ان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ انسانی حقوق، انصاف اور جمہوری اقدار کے تحفظ کے لیے اپنے کوششوں کو مزید مؤثر، مربوط اور نتیجہ خیز بناے تاکہ خطے میں پائیدار امن اور استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔

فری بلوچستان موومنٹ اس عزم کا اعادہ کرتی ہے کہ وہ ہر فورم پر بلوچ قوم سمیت ایرانی زیر تسلط دیگر مظلوم اقوام کے حق کے لئیے آواز بلند کرتی رہے گی اور بلوچ قوم کے لیے ایک ایسے مستقبل کے لیے جدوجہد جاری رکھے گی جہاں ، آزادی، امن، انصاف مذہبی رواداری اور جمہوریت کو یقینی بنایا جا سکے۔