Homeخبریںدریائے مکران میں 9 بلوچ ملاح 70 روز سے لاپتہ، اہلِ خانہ...

دریائے مکران میں 9 بلوچ ملاح 70 روز سے لاپتہ، اہلِ خانہ شدید تشویش میں مبتلا

 

جاشک( ھمگام نیوز ) بلوچستان کے ساحلی علاقوں زرآباد اور جاشک سے تعلق رکھنے والے 9 بلوچ ملاح تقریباً 70 روز گزرنے کے باوجود لاپتہ ہیں۔ یہ ملاح ماہی گیری کے لیے دریائے مکران اور کھلے سمندری علاقوں کی جانب روانہ ہوئے تھے، تاہم ان کے بارے میں اب تک کوئی مصدقہ اطلاع موصول نہیں ہوئی۔

 

موصولہ اطلاعات کے مطابق مذکورہ ملاح 21 مارچ 2026 کو جاشک کی بندرگاہ سے ایک ماہی گیر لنج کے ذریعے سمندر میں روانہ ہوئے تھے، لیکن اس تاریخ کے بعد سے ان کا اپنے اہلِ خانہ سے کوئی رابطہ نہیں ہوا اور نہ ہی ان کی موجودہ صورتحال کے بارے میں کوئی معلومات سامنے آئی ہیں۔

 

لاپتہ افراد میں سے ایک کی شناخت حسن سالاری کے نام سے ہوئی ہے، جو تقریباً 17 سالہ نوجوان ہے اور زرآباد کے گاؤں گرگان کا رہائشی ہے۔ دیگر ملاح بھی جاشک کے بلوچ باشندے بتائے جاتے ہیں، تاہم ان کی مکمل شناخت تاحال منظرِ عام پر نہیں آئی۔

 

ذرائع کے مطابق گزشتہ ہفتوں کے دوران لاپتہ ملاحوں کے بارے میں مختلف اطلاعات اور افواہیں اہل خانہ تک پہنچتی رہیں۔ ایک اطلاع میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ مذکورہ لنج کھلے سمندر میں آگ لگنے کے باعث تباہ ہو گئی اور اس کے تمام مسافر جان کی بازی ہار گئے۔ اس خبر کے بعد بعض خاندانوں نے اپنے پیاروں کے لیے سوگ کی تقریبات بھی منعقد کیں، تاہم بعد میں اس اطلاع کی تصدیق نہ ہو سکی اور مختلف ذرائع نے اس کی تردید کر دی، جس کے بعد خاندان ایک بار پھر غیر یقینی صورتحال کا شکار ہو گئے۔

 

لاپتہ ملاحوں کے بارے میں مسلسل بے خبری ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب حالیہ مہینوں میں خطے میں بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی کے دوران دریائے عمان ، دریائے مکران بحرِ ہند اور آبنائے ہرمز کے اطراف بلوچ ماہی گیروں اور ملاحوں کے لاپتہ ہونے کی متعدد اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

 

متاثرہ خاندانوں کا کہنا ہے کہ متعلقہ اداروں کی جانب سے شفاف معلومات کی عدم فراہمی اور مؤثر پیروی نہ ہونے کے باعث ان کی تشویش میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کے عزیز محض روزگار اور معاشی ضروریات پوری کرنے کے لیے سمندر میں گئے تھے اور انہیں موجودہ حالات سے کوئی تعلق نہیں تھا۔

 

یاد رہے کہ بلوچ ماہی گیر اپنی روزی روٹی کے لیے اکثر دور دراز سمندری علاقوں میں ماہی گیری پر مجبور ہوتے ہیں۔ حالیہ مہینوں میں ان علاقوں میں جنگی کشیدگی، فوجی سرگرمیوں اور غیر ملکی بحری افواج کی بڑھتی ہوئی موجودگی کے باعث خطرات میں اضافہ ہوا ہے۔

 

رپورٹ کے مطابق خبر کی اشاعت تک ایران یا خطے کے کسی دوسرے ملک کے سرکاری ادارے نے اس لنج اور اس کے 9 لاپتہ ملاحوں کے بارے میں کوئی باضابطہ وضاحت جاری نہیں کی، جبکہ ان کی قسمت اب بھی ایک معمہ بنی ہوئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں

فیچرز