شال :(ہمگام نیوز ) بلوچ سالویشن فرنٹ کے مرکزی ترجمان نے اپنے جاری کردہ بیان میں گزشتہ روز شال پریس کلب میں بلوچ خواتین کو پریس کانفرنس سے روکنے اور مقامی صحافیوں کو اس کی کوریج سے باز رکھنے کے عمل کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے انسانی حقوق، آزادیٔ اظہار اور بین الاقوامی صحافتی اصولوں کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

ترجمان نے کہا کہ کسی بھی معاشرے میں اظہارِ رائے کی آزادی اور صحافت کی خودمختاری بنیادی جمہوری اقدار کی حیثیت رکھتی ہیں۔ مگر بلوچستان میں نہ صرف سیاسی کارکنوں بلکہ جبری گمشدگیوں کے شکار افراد کے اہلِ خانہ تک کو اپنی آواز بلند کرنے سے روکا جا رہا ہے، جو ایک غیر جمہوری اور آمرانہ طرزِ عمل کی عکاسی کرتا ہے۔

ترجمان نے کہا کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کی سربراہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور ان کے ساتھی گلزادی بلوچ، بیبو بلوچ اور شاہ جی بیبرگ بلوچ گزشتہ ایک سال سے بغیر کسی ثبوت یا شفاف قانونی کارروائی کے ریاستی جیلوں میں قید ہیں۔ اس کے باوجود ان کی رہائی کے لیے آواز اٹھانے والے خاندانوں اور کارکنوں کو بھی احتجاج اور اظہارِ رائے کے بنیادی حق سے محروم کیا جا رہا ہے۔

ترجمان کے مطابق حالیہ دنوں نادیہ بلوچ کو پریس کلب میں داخل ہونے سے روکنا اور انہیں وہاں سے بے دخل کرنا دراصل وہی نوآبادیاتی طرزِ حکمرانی کا تسلسل ہے جو گزشتہ دو دہائیوں سے بلوچستان میں اختیار کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے اقدامات واضح طور پر یہ ظاہر کرتے ہیں کہ ریاست نہ صرف سیاسی اختلاف کو برداشت کرنے سے قاصر ہے بلکہ مظلوم خاندانوں کی آواز کو بھی دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ متاثرہ خاندانوں، بالخصوص خواتین کو پُرامن احتجاج، پریس کانفرنس اور اظہارِ رائے کے جمہوری حق سے محروم کرنا ایک سنگین غیر جمہوری رویہ ہے۔ دنیا بھر میں پریس کلب اور میڈیا پلیٹ فارم مظلوم اور محکوم اقوام کے لیے اپنی آواز دنیا تک پہنچانے کا اہم ذریعہ سمجھے جاتے ہیں اور انہیں اسی مقصد کے لیے آزاد اور غیر جانبدار ہونا چاہیے۔ تاہم پاکستان اور بالخصوص بلوچستان میں میڈیا شدید دباؤ اور کنٹرول کا شکار ہے جس کے باعث سچائی کو عوام تک پہنچنے سے روکا جا رہا ہے۔

ترجمان نے عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں، بین الاقوامی صحافتی اداروں اور جمہوری قوتوں سے اپیل کی کہ وہ بلوچستان میں اظہارِ رائے کی آزادی اور صحافتی خودمختاری پر عائد پابندیوں کا فوری نوٹس لیں اور ریاست پر دباؤ ڈالیں تاکہ جبری گمشدگیوں، غیر قانونی گرفتاریوں اور سیاسی آوازوں کو دبانے کی پالیسی کا خاتمہ ممکن ہو سکے۔