شال:( ہمگام نیوز) بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے خلاف وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے زیر اہتمام قائم احتجاجی کیمپ تنظیم کے ایگزیکٹو کمیٹی کے رکن نیاز محمد کی سربراہی میں کوئٹہ پریس کلب کے سامنے 6102 واں روز جاری رہا۔ اس دوران بلوچ اسٹوڈنس آرگنائزیشن کے سابق چیئرمین مہیم بلوچ نے احتجاجی کیمپ کا دورہ کیا، لاپتہ افراد کے لواحقین سے اظہار یکجہتی کیا۔ انہوں جبری گمشدگیوں کے خاتمہ اور لاپتہ افراد کی بازیابی کا مطالبہ کیا۔ وی بی ایم پی کے چیرمین نصراللہ بلوچ نے جبری لاپتہ بلوچوں کی ماورائے عدالت قتل پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان، مکران ڈویژن سے گزشتہ دو ماہ کے دوران 21 سے زائد نوجوانوں کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں، ان میں سے بہت سے متاثرین کو فورسز نے مبینہ طور پر پہلے حراست میں لینے کے بعد جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا گیا تھا، اور بعد میں ان کی گولیوں سے چھلنی لاشیں ملی ہے، یہ واقعات بلوچستان میں انسانی جانوں کے ضیاع کے بڑھتے ہوئے سلسلے کی نشاندہی کرتے ہیں، جس کی مذمت کرتے ہیں اور حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ ان واقعات کا صاف شفاف تحقیقات کو یقینی بنائیں اور اصل حقائق عوام کے سامنے لائیں۔. کوئٹہ: جبری گمشدگیوں کے خلاف احتجاج جاری.