شال : ( ہمگام نیوز) وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے چیرمین نصراللہ بلوچ نے کہا ہے کہ ہر سال کی طرح اس عید کے موقع پر بھی وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز (وی بی ایم پی) کے زیرِ اہتمام لاپتہ افراد کی بازیابی، جبری گمشدگیوں اور بلوچوں کے ماورائے عدالت قتل کے خلاف ایک پُرامن احتجاجی مظاہرہ سہ پہر 3 بجے کوئٹہ پریس کلب کے سامنے منعقد کیا جائے گا۔ وی بی ایم پی کی جانب سے تمام سیاسی جماعتوں، طلبہ تنظیموں، سول سوسائٹی اور مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ اس احتجاج میں بھرپور شرکت کو یقینی بنائیں، تاکہ لاپتہ افراد کے لواحقین کی آواز کو تقویت مل سکے اور جبری گمشدگیوں کے خلاف مشترکہ اور مؤثر آواز بلند کی جا سکے۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ جبری گمشدگیوں کے خلاف کوئٹہ پریس کلب کے سامنے وی بی ایم پی کا احتجاجی کیمپ آج 6107ویں روز میں داخل ہو چکا ہے۔ اس موقع پر مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے کیمپ کا دورہ کیا، لاپتہ افراد کے اہل خانہ سے اظہارِ یکجہتی کیا اور جبری گمشدگیوں کے خاتمے کے ساتھ ساتھ لاپتہ افراد کی فوری بازیابی کا مطالبہ کیا۔ دریں اثناء، وی بی ایم پی کے چیئرمین نصراللہ بلوچ نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ تنظیم نے جبری لاپتہ افراد سیف اللہ اور دانیال ناصر کے کیسز کمیشن آف انکوائری آن انفورسڈ ڈس اپیئرنسز اور صوبائی حکومت کو فراہم کر دیے ہیں۔ انہوں نے متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا کہ دونوں نوجوانوں کی فوری بازیابی کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ان افراد پر کسی قسم کا الزام ہے تو انہیں منظرِ عام پر لا کر عدالت میں پیش کیا جائے تاکہ ان کے اہل خانہ کو ذہنی اذیت سے نجات مل سکے اور انصاف کے تقاضے پورے کیے جا سکیں۔ واضح رہے کہ سیف اللہ ولد عطاءاللہ کو مبینہ طور پر 12 مارچ کی شب خلیفہ چوک، منو جان روڈ، ہدہ کوئٹہ سے سی ٹی ڈی اہلکاروں نے حراست میں لینے کے بعد لاپتہ کر دیا، جبکہ دانیال ناصر ولد عبدالناصر، سکنہ جعفر آباد، 16 فروری سے لاپتہ ہیں۔ وی بی ایم پی نے ایک بار پھر حکومت اور متعلقہ اداروں سے اپیل کی ہے کہ جبری گمشدگیوں کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے اور تمام لاپتہ افراد کو بازیاب کر کے قانون کے مطابق عدالتوں میں پیش کیا جائے۔. کوئٹہ: جبری گمشدگیوں کے خلاف احتجاج جاری، وی بی ایم پی کا عید کے روز بھی مظاہرے کا اعلان.















