بلوچستان کے بعض کارکنوں نے حملہ آوروں سے کہا ہے کہ وہ اپنی کارروائیوں کو “زیادہ مؤثر، مربوط اور نتیجہ خیز” بنائیں۔

بلوچستان کی آزادی کے حامی ایک علیحدگی پسند تنظیم نے ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کی حمایت کرتے ہوئے بیان جاری کیا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اس بیان کا مقصد عالمی توجہ حاصل کرنا ہے۔ یہ پیش رفت پاکستان، ایران اور افغانستان کے سرحدی خطے میں سیکیورٹی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا سکتی ہے۔

فری بلوچستان موومنٹ (FBM) نے اپنے بیان میں امریکہ اور اسرائیل کے فیصلے کو “جرأت مندانہ قدم” قرار دیتے ہوئے کہا کہ “ہم عالمی برادری، خاص طور پر امریکہ، اسرائیل، مغربی ممالک اور دیگر طاقتوں کے اقدامات کو سراہتے ہیں اور ان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اپنی کوششوں کو زیادہ مؤثر، مربوط اور نتیجہ خیز بنائیں تاکہ انسانی حقوق، انصاف اور جمہوری اقدار کا تحفظ ہو سکے اور خطے میں پائیدار امن قائم ہو۔”

فری بلوچستان موومنٹ بلوچستان (پاکستان) میں قائم ایک قوم پرست سیاسی تنظیم ہے جو طویل عرصے سے بلوچستان کی آزادی کا مطالبہ کرتی رہی ہے۔ یہ تنظیم ایک بڑے بلوچستان کے تصور کی حامی ہے جس میں پاکستان، ایران اور افغانستان کے بلوچ علاقوں کو شامل کیا جاتا ہے۔

اطلاعات کے مطابق یہ تنظیم بلوچ لبریشن آرمی آزاد (BLA-Azad) نامی مسلح گروہ کے قریب سمجھی جاتی ہے۔

BLA-Azad، بلوچ لبریشن آرمی (BLA) کا ایک دھڑا ہے جو 2017 میں الگ ہوا تھا۔ یہ گروپ سیکیورٹی فورسز، سرکاری تنصیبات اور چینی منصوبوں پر حملوں میں ملوث رہا ہے۔ پاکستان، امریکہ اور برطانیہ اس گروپ کو دہشت گرد تنظیم قرار دے چکے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ FBM کا بیان دراصل امریکہ اور اسرائیل کی توجہ حاصل کرنے کی کوشش ہے تاکہ اسے سیاسی یا مالی حمایت مل سکے۔

اسلام آباد کے تھنک ٹینک سانوبر انسٹیٹیوٹ کے سربراہ قمر چیمہ کے مطابق “یہ امریکہ کو پیغام دینے کی کوشش ہے کہ یہ تنظیم خطے میں ایک اہم فریق ہے اور شاید سیاسی شناخت یا مالی مدد حاصل کرنا چاہتی ہے۔”

تشدد کے واقعات پر نظر رکھنے والے تجزیہ کار کیّا بلوچ نے بھی یہی مؤقف اختیار کیا کہ بیرونی طاقتیں کسی نہ کسی شکل میں مدد فراہم کر سکتی ہیں، جیسے سیاسی لابنگ، بین الاقوامی حمایت، انٹیلی جنس یا لاجسٹک مدد۔

یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب ایران کے اندر اور سرحدی علاقوں میں مختلف مسلح گروپوں پر عالمی توجہ ہے، اور قیاس آرائیاں ہو رہی ہیں کہ امریکہ ایران مخالف گروپوں کو استعمال کر سکتا ہے۔

ڈی کن یونیورسٹی آسٹریلیا کے محقق زاہد شہاب کے مطابق ایران کے صوبہ سیستان و بلوچستان میں بلوچ اور کرد گروپوں کا ذکر اکثر مغربی پالیسی مباحث میں آتا ہے کیونکہ ان کی خودمختاری کی تحریکوں کی تاریخ رہی ہے۔

تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اس بات کے کم شواہد ہیں کہ اسرائیل یا امریکہ بلوچ علیحدگی پسندوں کی عملی مدد کریں گے۔

پاکستان میں تمام علیحدگی پسند گروپ اس بیان سے متفق نہیں ہیں۔

بلوچ لبریشن آرمی کے ایک اور دھڑے اور بلوچ لبریشن فرنٹ نے ایران کے معاملے پر کوئی واضح ردعمل نہیں دیا۔

اس اختلاف کی ایک وجہ مختلف اہداف ہیں۔

کچھ گروپ صرف پاکستان سے علیحدگی چاہتے ہیں جبکہ FBM پاکستان، ایران اور افغانستان کے بلوچ علاقوں کو ملا کر ایک بڑا بلوچستان بنانا چاہتی ہے۔

پاکستانی سیکیورٹی حلقوں کو خدشہ ہے کہ اگر ایران کے صوبہ سیستان و بلوچستان میں کمزوری پیدا ہوئی تو اس کا اثر پاکستان کے بلوچستان میں بھی پڑ سکتا ہے اور شدت پسند گروپ مضبوط ہو سکتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق اگر ایران کی سرحدی کنٹرول کمزور ہوا تو عسکریت پسند، اسمگلر اور جرائم پیشہ گروہ آسانی سے سرحد پار آ جا سکیں گے۔

یہ رپورٹ صحافی عدنان عامر کی تحریر ہے جو Nikkei Asia میں شائع ہوئی تھی۔ ہمگام نیوز نے اسے اردو قارئین کے لیے ترجمہ کر کے شائع کیا ہے۔