کوئٹہ(ھمگام نیوز ) گلستان میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کے خلاف نفرت اور اشتعال انگیزی پھیلانے کے الزامات پر مقدمہ درج کر لیا گیا۔ ایف آئی آر میں ان پر حکومت کو توہین آمیز الفاظ سے خطاب کرنے، افغانی مہرے بنانے کی ترغیب دینے اور ریاستی اداروں کے خلاف اکسائے جانے کے الزامات شامل ہیں۔ تعزیرات قابض پاکستان کی متعدد دفعات کے تحت کارروائی کی گئی۔
تفصیلات کے مطابق ضلع قلعہ عبداللہ کی تحصیل گلستان کے تھانہ گلستان میں پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی اور دیگر کے خلاف ریاستی اداروں کے خلاف مبینہ طور پر سخت، توہین آمیز اور اشتعال انگیز تقریر کرنے، عوام کو اکسانے اور نفرت پھیلانے کے الزامات کے تحت باقاعدہ مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔
یہ کارروائی سائل عبدالولی خان ولد عبدالغفار خان قوم شینزئی سکنہ گلستان کاری کی تحریری درخواست پر عمل میں لائی گئی ہے۔تھانہ گلستان میں درج ایف آئی آر مقدمہ نمبر 2026/29) کے متن کے مطابق، مدعی مقدمہ نے پولیس کو دی گئی درخواست میں موقف اختیار کیا ہے کہ گورنمنٹ ہائی اسکول گلستان کے گراونڈ میں ایک عوامی جلسہ جاری تھا، جس میں تقریبا 650 سے 700 کے لگ بھگ افراد شریک تھے۔
اس موقع پر جلسے سے خطاب کرتے ہوئے ملزم محمود خان اچکزئی ولد محمد خان نے مبینہ طور پر کہا کہ آئے روز مقبوضہ بلوچستان میں بدامنی ہے اور موجودہ حکومت عوام کو تحفظ فراہم کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔ انہوں نے حکومت کو ‘فارم 47 کی جعلی حکومت’ قرار دیا اور مبینہ طور پر قابض پاکستان آرمی کے مقابلے میں مختلف قبائل سے بندے لے کر ایک متبادل آرمی بنانے کی تجویز پیش کی۔ایف آئی آر کے متن میں مزید الزام لگایا گیا ہے کہ ملزم نے تمام امن پسند قابض پاکستانی عوام کو افغانی مہرے بنانے کی ترغیب دی، جس سے قابض پاکستانی اداروں اور عوام کے درمیان شدید نفرت اور اشتعال انگیزی پھیلانے کی کوشش کی گئی۔
اس کے علاوہ شاہراہِ عام پر ہر قسم کی آمد و رفت کو بند کرنے اور عوام کو ریاستی اداروں کے خلاف اکسانے کے لیے لاﺅڈ اسپیکر کا آزادانہ استعمال کیا گیا۔ پولیس نے مدعی کی درخواست پر کارروائی کرتے ہوئے ملزم محمود خان اچکزئی وغیرہ کے خلاف تعزیراتِ قابض پاکستان کی دفعات 153، 505، 131، 341، 147، 149 اور مقبوضہ بلوچستان ساﺅنڈ سسٹم ریگولیشن ایکٹ 2016 کے تحت مقدمہ درج کر کے باقاعدہ تفتیش سب انسپکٹر (SI) غلام محمد کے سپرد کر دی ہے، جنہوں نے جائے وقوعہ کا دورہ کر کے مزید قانونی کارروائی شروع کر دی ہے۔


