راسک(ھمگام نیوز) رپورٹ کے مطابق، بدھ 4 جون 2026 کو ایرانی مقبوضہ بلوچستان کے شہر راسک میں ایک ٹریفک حادثے کے بعد ایندھن سے بھری گاڑی میں آگ لگنے کے نتیجے میں ایک بلوچ ایندھن بردار جان کی بازی ہار گیا۔
جاں بحق ہونے والے شخص کی شناخت منصور بلوچ محمدی ولد عیسی کے نام سے ہوئی جو کہ سرباز شہر کے علاقے کیشکور کے گاؤں کمبیگ دپ کے رہائشی تھے۔
ذرائع کے مطابق منصور بلوچ محمدی کی گاڑی دورانِ سفر بے قابو ہو کر الٹ گئی، جس کے بعد اس میں آگ بھڑک اٹھی۔ شدید زخمی ہونے کے باعث وہ موقع پر ہی دم توڑ گئے۔
اعداد و شمار کے مطابق سال 2025 کے دوران مجموعی طور پر کم از کم 173 بلوچ ایندھن بردار ہلاک اور 132 زخمی ہوئے۔ ان میں 131 اموات اور 80 زخمی ٹریفک حادثات کے نتیجے میں پیش آئے، جبکہ 37 افراد سیکیورٹی فورسز کی کارروائیوں جیسے فائرنگ، بارودی سرنگ دھماکوں، تعاقب اور تشدد کے باعث ہلاک اور 44 زخمی ہوئے۔ مزید یہ کہ 2 افراد ایندھن برداری کے دوران ڈوب کر جان سے گئے، جبکہ آتشزدگی کے واقعات میں 1 شخص ہلاک اور 7 زخمی ہوئے۔ نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ میں 2 افراد ہلاک اور 1 زخمی ہوا۔ اسی سال کم از کم 211 ایندھن برداروں کو گرفتار بھی کیا گیا۔


