Homeخبریںگومازی میں چار بلوچ خاندانوں کے گھر مسمار، قابض پاکستان کی بلوچوں...

گومازی میں چار بلوچ خاندانوں کے گھر مسمار، قابض پاکستان کی بلوچوں کو اجتماعی سزا دینے کی پالیسیوں کا تسلسل جاری ہے۔

گومازی (ھمگام نیوز) بلوچ ذرائع اور مقامی رہائشیوں کے مطابق ضلع کیچ کے علاقے گومازی میں قابض پاکستانی فورسز کی نگرانی میں نذیر بلوچ، شیر دل بلوچ، عمر بلوچ اور تاج محمد بلوچ کے گھروں کو بلڈوزروں کے ذریعے مسمار کر دیا گیا، جبکہ متعدد دیگر گھروں کو نذرِ آتش کیے جانے کی بھی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

واقعے کے بعد منظرِ عام پر آنے والی ویڈیوز میں مبینہ طور پر قابض پاکستانی فوجی وردیوں میں ملبوس اہلکاروں کو کارروائی کی نگرانی کرتے، ٹریکٹر ڈرائیوروں کو ہدایات دیتے اور جلتے ہوئے گھروں کے قریب موجود دیکھا جا سکتا ہے۔ مقامی ذرائع کے مطابق کارروائی کے دوران کئی دیگر گھروں کو بھی نقصان پہنچا، جبکہ متعدد خاندانوں کا قیمتی سامان اور گھریلو اشیاء مبینہ طور پر فوجی اہلکاروں نے دیدی دلیری سے چور کرکے اپنے ساتھ لے لیں۔

بلوچ سیاسی و سماجی حلقوں نے اس کارروائی کو ’’اجتماعی سزا‘‘ (Collective Punishment) کی ایک اور مثال قرار دیتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ قابض پاکستانی پنجابی فوج گزشتہ کئی برسوں سے بلوچستان میں سیاسی اختلاف رائے اور مزاحمتی سرگرمیوں سے منسلک افراد کے اہلِ خانہ کو نشانہ بنانے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ ناقدین کے مطابق ایسے اقدامات کا مقصد صرف افراد کو نہیں بلکہ پورے خاندانوں اور مقامی آبادی کو خوفزدہ کرنا اور انہیں معاشی و سماجی طور پر مفلوج کرنا ہے۔

انسانی حقوق کے کارکن یاد دلاتے ہیں کہ 2013 کے بعد بلوچستان کے مختلف علاقوں سے ایسی متعدد رپورٹس سامنے آ چکی ہیں جن میں بلوچ سیاسی کارکنان، قابض پاکستانی اداروں کے ہاتھوں جبری گمشدگی کے شکار افراد، یا ریاستی کارروائیوں سے بچنے کے لیے روپوش ہونے والے افراد کے خاندانوں کے مکانات مسمار کیے جانے کے واقعات شامل ہیں۔ ان کارروائیوں کے نتیجے میں بیسیوں خاندان بے گھر ہوئے اور انہیں اپنے آبائی علاقوں سے نقل مکانی پر مجبور ہونا پڑا۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ گھروں کی مسماری، املاک کو نذرِ آتش کرنا اور خاندانوں کو اجتماعی طور پر نشانہ بنانا بین الاقوامی انسانی حقوق کے اصولوں اور مسلح تنازعات سے متعلق مروجہ قوانین کی روح کے منافی ہے۔ ان کے مطابق اگر ریاست کسی فرد پر الزام عائد کرتی ہے تو ذمہ داری انفرادی ہوتی ہے، نہ کہ اس کے اہلِ خانہ یا پورے خاندان کی۔

گومازی میں پیش آنے والا حالیہ واقعہ بلوچستان میں انسانی حقوق کی صورتحال پر ایک بار پھر سنگین سوالات اٹھا رہا ہے۔ بلوچ حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ متاثرہ خاندانوں کو فوری انصاف فراہم کیا جائے، نقصانات کا ازالہ کیا جائے، اور بلوچستان میں شہری آبادی کے خلاف مبینہ اجتماعی سزا کی پالیسی کا خاتم

ہ کیا جائے۔

یہ بھی پڑھیں

فیچرز