شال(ھمگام نیوز) بلوچ یکجہتی کمیٹی کیچ کے علاقے گومازی میں پاکستانی فوج کی جانب سے گھروں کو مسمار کرنا، لوٹ مار اور نقصان پہنچانے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتی ہے۔ دو روز قبل گومازی میں متعدد گھروں کو سرچ آپریشن کے بہانے توڑ پھوڑ کرنے کے بعد نذرِ آتش کیا گیا۔ اس گھنونے کاروائی کے دوران خواتین، بچوں اور بزرگوں کو خوف و ہراس کا نشانہ بنایا گیا جبکہ شہریوں کی املاک کو نقصان پہنچایا گیا۔ اس کارروائی میں خلیل نیکی اور لیاقت صاحبداد کے گھروں کو جلا دیا گیا جبکہ رشید بلوچ کے گھر کو ٹریکٹر کے ذریعے مسمار کیا گیا۔ اس کے علاوہ فورسز نے گھروں سے نقدی، زیورات اور دیگر قیمتی سامان بھی لوٹ کر لے گئے۔
بلوچستان میں جاری ریاستی جبر کی پالیسیاں مسلسل عام شہریوں کو نشانہ بنا رہی ہیں۔ گھروں کو جلانا، املاک کو تباہ کرنا، آبادیوں کو محاصرے میں لینا اور عوام کو اجتماعی سزا دینا ایسے اقدامات ہیں جو نہ صرف بنیادی انسانی حقوق کی صریح خلاف ورزی ہیں بلکہ بلوچ نسل کشی پالیسی کا حصہ ہے۔
بلوچستان میں عام شہریوں کی گھروں کو مسمار کرنا، نذرآتش کرنا، اور لوٹ مار نئی پالیسی نہیں ہے، بلکہ کئی دہائیوں سے یہ پالیسی جاری ہے، اس سے قبل نوشکی، زہری، آواران، بولان، مشکےاور پنجگور میں سینکڑوں لوگوں کے گھروں کو نشانہ بنایا جاچکا ہے، ہزاروں لوگوں کو جبری نقل مکانی پر مجبور کیا جاچکا ہے، انکے کھیتوں، ٹیوب ویل حتی کہ سولر پینل تک کو تباہ کیا جاچکا ہے۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی انسانی حقوق کے اداروں، اقوامِ متحدہ کے متعلقہ میکانزم اور سول سوسائٹی کے حلقوں سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ گومازی اور بلوچستان بھر میں ہونے والے اس طرح کے پیش آنے والے واقعات کا فوری نوٹس لیں اور عام شہریوں کے املاک کے نقصان دہی اور جبری نقل مکانی کے پاکستان کے اس پالیسی کے خلاف جوابدہ ٹہرائے۔


