شال(ھمگام نیوز) بلوچ آزادی پسند رہنما اور بلوچستان لبریشن فرنٹ (بی ایل ایف) کے سربراہ ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ اگر کشمیری اور پشتون مزاحمت بلوچ قومی جدوجہد کا ساتھ دے تو تاریخ کا رخ بدل سکتا ہے۔
اپنے بیان میں ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ نے کہا کہ پنجابی ریاست اپنی طبعی عمر کے آخری موڑ پر پہنچ چکی ہے، اور وہ دن دور نہیں جب پنجاب ایک محصور اور لینڈ لاک خطے کی صورت اختیار کر لے گا۔ میں بلوچ قومی سپاہی کی حیثیت سے، مزاحمت کے محاذ پر، کشمیری اور پشتونوں کو بلوچ قوم کی جانب سے کھلے دل اور گرم جوشی کے ساتھ خوش آمدید کہنے کے لیے تیار ہوں۔
ان کا کہنا تھا کہ آج اگر کشمیری اور پشتون اقوام تاریخ کے اس اہم اور فیصلہ کن موڑ پر آگے بڑھ کر بلوچ قومی تحریک کا ساتھی بننے کا فیصلہ کرتے ہیں تو ہم عشروں کے مسافت کو برسوں میں طے کرسکتے ہیں۔ اگر پنجابی استعماریت کے جبر کے شکار اقوام یہ تاریخی فیصلہ کرتے ہیں تو وہ پاکستان جو گزشتہ ستتر برسوں سے بلوچ، سندھی، پشتون اور کشمیری اقوام کے خلاف جبر، استحصال اور جنگی جرائم کا ارتکاب کرتا چلا آ رہا ہے، سکڑ کر محض ایک لینڈ لاک پنجاب تک محدود ہو جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ آج تاریخ ہمیں پکار رہی ہے کہ محکوم اقوام اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کریں۔ اگر پشتون اور کشمیری عوام نے مزاحمت اور آزادی کی راہ اختیار کرنے کا تاریخی فیصلہ کر لیا تو وہ خود کو تنہا نہیں پائیں گے بلکہ ہر محاذ پر بلوچ مزاحمت کو اپنے شانہ بشانہ پائیں گے۔ ان کے مطابق مختلف اقوام کی مزاحمتی اور آزادی کی تحریکیں جب مشترکہ مقصد کے تحت اکٹھی ہوتی ہیں تو تاریخ کا رخ بدل دیتی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اپنے وجود میں ایک عسکری، قبضہ گیر اور محکوم قوموں کی سرزمینوں پر قائم ایک توسیع پسند ریاست ہے۔ ریاستی ڈھانچہ ان کے بقول تاریخ کے چہرے پر ایک بدنما داغ اور تضادات کا مجموعہ ہے، اور ایسی ریاستیں اپنے اندر ہی زوال کے عوامل رکھتی ہیں۔ ان کے مطابق یہ ریاستیں محکوم قوموں کے شعور اور مزاحمت کے باعث اپنے انجام کی طرف بڑھتی ہیں، اور پاکستان بھی اسی انجام کے قریب ہے۔
ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ نے کہا کہ بلوچ، پشتون اور سندھی تحریکوں کے ابھرنے کے بعد کشمیری مسئلہ بھی واضح ہو چکا ہے۔ ان کے مطابق اب یہ بات روزِ روشن کی طرح واضح ہے کہ کشمیر کو ایک نوآبادیاتی حیثیت میں رکھا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کشمیری نوجوان اور دانشور اب اپنی سیاسی حقیقت کو سمجھ رہے ہیں اور ریاستی بیانیے پر سوال اٹھا رہے ہیں۔ ان کے مطابق کشمیری جدوجہد نے ریاستی “ہارڈ اسٹیٹ” بیانیے کی حقیقت کو بے نقاب کر دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ اصطلاح دراصل اس بات کا اظہار ہے کہ ریاست طاقت اور جبر کے ذریعے اپنی پالیسیوں کو نافذ کر رہی ہے۔ ان کے مطابق مختلف قوموں کی مزاحمت اس ریاستی ڈھانچے کو چیلنج کر رہی ہے۔
ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ نے کہا کہ “ہارڈ اسٹیٹ” کا بیانیہ دراصل اس بات کی علامت ہے کہ موجودہ ریاستی نظام اپنی بقا کے بحران کا شکار ہے اور بلوچ قومی تحریک اپنے مقاصد کے قریب پہنچ رہی ہے۔
ان کے مطابق ریاستی طاقت کے ذریعے محکوم اقوام کی تحریکوں کو دبانے کی حکمت عملی نے خود اس ریاستی ڈھانچے کو کمزور کر دیا ہے، اور یہی صورتحال اس کے مستقبل پر
سوالیہ نشان ہے۔


