کراچی(ھمگام نیوز) بلوچ یکجہتی کمیٹی کے رہنماء سمی دین بلوچ نے ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ و دیگر کو عمر قید کی سزا سنانے پر کہا ہے کہ جس دن ہمارے ساتھیوں کے مقدمات کو فیس لیس ٹرائل میں منتقل کیا گیا، پراسیکیوٹر کی جانب سے ججز پر ٹرائل کو تیز کرنے اور سزا سنانے کے لیے مسلسل زور دیا گیا، اور عدالت کے رویے سے ظاہر ہونے والی بے چینی سامنے آئی، اسی دن ہمیں اندازہ ہوگیا تھا کہ انصاف نہیں بلکہ پہلے سے طے شدہ سزائیں ہمارا انتظار کر رہی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ لیکن بلوچ قوم یہ حقیقت کبھی فراموش نہیں کرے گی کہ پرامن سیاسی آوازوں کو خاموش کرانے کے لیے صرف پولیس، قانون نافذ کرنے والے ادارے، حکومت اور خفیہ ایجنسیاں ہی متحرک نہیں تھیں، بلکہ انصاف کے ایوان بھی اس عمل میں شریک تھے۔ وہی عدلیہ جس سے مظلوموں نے امید باندھی تھی کہ وہ ظلم کے سامنے دیوار بنے گی، اسی نے ظالم کے ہاتھ مضبوط کیے۔ وہی ججز جن پر انصاف کی ذمہ داری عائد تھی، انہوں نے انصاف کا ترازو طاقتوروں کے حق میں جھکا دیا اور یوں آزاد اداروں کے بجائے اقتدار کے اشاروں پر چلنے والی کٹھ پتلیوں کا کردار ادا کیا۔
سمی دین نے کہا کہ تاریخ گواہ رہے گی کہ جب مظلوم انصاف مانگ رہے تھے تو ریاست کے مختلف ستون ایک صف میں کھڑے ہو کر ان کی آواز دبانے میں مصروف تھے اور یوں اپنے حق کے لئے کھڑے ہونے والے مظلوموں کو عمر قید کی سزائیں دی گئ
یں۔


