کیچ ( ہمگام نیوز ) مقبوضہ بلوچستان کے ضلع کیچ کے علاقے بلیدہ سے منصور انور کو 4 اگست 2026 کی شب 3 بجے قابض پاکستانی فورسز کے اہلکاروں نے انکے گھر بلیدہ کورے پشت سے گرفتار کر کے لے گئے ہیں تب سے ان کے بارے میں کوئی معلومات نہیں دیئے گئے ہیں۔
واضح رہے منصور انور اس سے پہلے نومبر 2023 کو بھی جبری گمشدگی کا شکار ہوگئے تھے اور 2 ماہ بعد جنوری 2024 کو بازیاب ہوئے۔
بازیابی کے بعد تب سے لیکر اب کی بار گمشدگی سے پہلے وہ اپنے معمول کی روزمرہ زندگی محنت مزدوری کرکے گزار رہے تھے اور حالیہ دنوں میں وہ اپنے مرحوم بیٹے کے نام سے سلو بلیدہ میں “آل بلیدہ زامران ڈسٹرکٹ کیچ مرحوم بالاچ اینڈ مرحوم آدم ناک آؤٹ فٹبال ٹورنامنٹ” کو اسپانس کر رہے تھے جو کہ یہ ٹورنامنٹ اب منصور انور کی جبری گمشدگی کی وجہ سے روک لیا گیا ہے۔
ھم منصور انور کے اہلخانہ اس وقت شدید صدمے میں ہیں ہم متعلقہ حکام اور اداروں سے درخواست کرتے ہیں کہ منصور کو جلد بحفاظت بازیاب کیا جائے۔
علاوہ ازیں خاران ذرائع کے مطابق خاران کوئٹہ مرکزی شاہراہ پر پتکن اور البت کے علاقوں میں نامعلوم مسلح افراد نے ناکہ بندی کے دوران دو افراد کو اغوا کرکے لے گئے۔تاہم مغویوں کی شناخت نہیں ہوپائی ہے ۔
ذرائع کے مطابق خاران کے علاقے دالی میں جھڑپ کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں.
دریں اثناء دو دن قبل زین کوہ سے شیرا کے ڈاکو نے سری رب نواز نامی نوجوان کو بندوق کے زور پر اغوا کرکے لے گے۔
اہلخانہ کے مطابق ان کے حوالے سے وہ سخت پریشان ہیں انھوں نے ان کی بازیابی کا مطالبہ کیا ہے ۔


