نئی دہلی(ھمگام نیوز ) امتحانی پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے خلاف تقریباً دو ماہ سے جاری احتجاج کے بعد بھارتی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے مستعفی ہو گئے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق وزیراعظم نریندر مودی نے ان کا استعفیٰ قبول کر لیا ہے۔
احتجاج کی قیادت کاکروچ جنتا پارٹی کر رہی تھی، جس نے نئی دہلی کے جنتر منتر پر مسلسل مظاہرے کیے۔ مظاہرین کا مؤقف تھا کہ امتحانی نظام میں شفافیت یقینی بنائی جائے، پیپر لیک کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جائے اور طلبہ کو انصاف فراہم کیا جائے۔
احتجاج کے دوران معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک بھوک ہڑتال بھی کی۔ 20 جولائی کو دی گئی احتجاجی کال پر ہزاروں نوجوان جنتر منتر پہنچے، جہاں پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے لاٹھی چارج اور واٹر کینن کا استعمال کیا، جبکہ متعدد افراد کو حراست میں بھی لیا گیا۔
کاکروچ جنتا پارٹی کے ترجمان نے وزیر تعلیم کے استعفے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ یہ نوجوانوں کی پرامن جدوجہد کی کامیابی ہے، تاہم ان کے بقول حکومت کی جانب سے اب تک باضابطہ مذاکرات کے لیے کوئی رابطہ نہیں کیا گیا۔
وزیراعظم نریندر مودی نے احتجاج کے دوران ایک ویڈیو پیغام میں نوجوانوں سے احتجاج ختم کرنے کی اپیل کی تھی، تاہم مظاہرین اپنے مطالبات پر قائم رہے۔ احتجاج میں شامل افراد کا کہنا تھا کہ صرف استعفیٰ کافی نہیں بلکہ امتحانی نظام میں مؤثر اصلاحات اور ذمہ دار عناصر کے خلاف قانونی کارروائی بھی ضروری ہے۔















