کویت/منامہ(ھمگام نیوز) امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ کے مطابق بحرین اور کویت نے پہلی مرتبہ ایران کے اندر براہِ راست فضائی کارروائیاں کرتے ہوئے متعدد فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔
رپورٹ میں باخبر ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ دونوں خلیجی ممالک کے لڑاکا طیاروں نے ایران کے اندر ڈرونز اور میزائل ذخیرہ کرنے والی تنصیبات سمیت دیگر فوجی اہداف پر حملے کیے۔ ذرائع کے مطابق یہ تہران کے خلاف بحرین اور کویت کی پہلی معلوم براہِ راست فوجی کارروائی ہے۔
رپورٹ کے مطابق متحدہ عرب امارات نے بھی ان کارروائیوں میں معاونت فراہم کی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ امارات نے ممکنہ اہداف سے متعلق انٹیلی جنس معلومات اور فضائی دفاعی تعاون فراہم کیا، جسے خطے میں دفاعی تعاون میں اضافے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی برقرار ہے، جبکہ حالیہ ہفتوں کے دوران خلیجی خطے میں بھی فوجی تناؤ میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ بحرین اور کویت میں امریکی فوجی اڈوں کی موجودگی کے باعث دونوں ممالک خطے کی سکیورٹی صورتحال میں اہم کردار رکھتے ہیں۔
اگرچہ بحرین اور کویت کی فضائی قوت محدود سمجھی جاتی ہے اور ان کے زیرِ استعمال زیادہ تر جنگی طیارے امریکی اور یورپی ساختہ ہیں، تاہم رپورٹ کے مطابق دونوں ممالک نے حالیہ علاقائی صورتحال کے تناظر میں براہِ راست کارروائی کا فیصلہ کیا۔
اس حوالے سے ایران، بحرین، کویت یا متحدہ عرب امارات کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا، جبکہ رپورٹ میں کیے گئے دعووں کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔















