خاش(ہمگام نیوز ) اطلاع کے مطابق ہفتہ 1 اگست 2026 کو خاش کے علاقے نجف آباد میں ایک بلوچ شہری کو مسلح نامعلوم افراد نے اس کے چائے خانے سے اغوا کر لیا، جس کے بعد سے اس کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں مل سکی۔
اغوا ہونے والے شہری کی شناخت 20 سالہ ایمان شہنوازی ولد مسلم کے نام سے ہوئی جو کہ خاش کے علاقے نجف آباد کا رہائشی ہے ۔
ذرائع کے مطابق یہ واقعہ ہفتہ کی شب تقریباً 10 بجے پیش آیا۔ مسلح افراد شہری کے چائے خانے میں داخل ہوئے اور ایمان شہنوازی کو اپنے ساتھ لے گئے، جس کے بعد وہ موقع سے فرار ہوگئے۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ اغوا کے دو روز گزرنے کے باوجود ایمان شہنوازی کی حالت اور اسے کہاں رکھا گیا ہے، اس بارے میں کوئی معلومات دستیاب نہیں ہیں۔ اہل خانہ کی جانب سے اپنے پیارے کے بارے میں معلومات حاصل کرنے اور اس کا سراغ لگانے کی کوششیں بھی تاحال کسی نتیجے تک نہیں پہنچ سکی ہیں۔
یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب مقبوضہ بلوچستان میں اغوا اور یرغمال بنائے جانے کے واقعات میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
بلوچ عالم دین مولوی عبدالحمید اسماعیل زہی نے بھی 31 جولائی 2026 کو نماز جمعہ کے خطبے میں بلوچستان میں بڑھتے ہوئے اغوا اور یرغمال بنائے جانے کے واقعات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ اداروں سے شہریوں کے تحفظ کے لیے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا تھا۔
مولوی عبدالحمید نے کہا کہ عوام کی برداشت ختم ہوچکی ہے اور بڑھتے ہوئے اغوا کے واقعات لوگوں میں شدید تشویش پیدا کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سکیورٹی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے پاس وسیع وسائل موجود ہیں، اور اگر ان جرائم کے خلاف سنجیدہ ارادہ موجود ہو تو ملزمان کی شناخت اور گرفتاری مشکل نہیں ہونی چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ان واقعات کے تسلسل کے باعث بدامنی اور اغوا صوبے کے عوام کے لیے اہم ترین خدشات میں شامل ہوگئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق بلوچستان میں اغوا اور یرغمال بنائے جانے کے واقعات، بالخصوص سکیورٹی اداروں کی مبینہ پشت پناہی میں مخصوص مقاصد کے حصول کے لیے، ایک سنگین مسئلہ بن چکے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق مقامی افراد کو استعمال کرتے ہوئے ایسے واقعات میں اضافہ ہوا ہے، جبکہ بلوچ شہریوں کو یرغمال بنانے اور ان سے بھتہ وصول کرنے کا رجحان بھی ایک اہم سماجی مسئلہ بن گیا ہے۔


