Homeخبریںبلوچ شناخت کو شک کی علامت بنا دیا گیا ہے، بلوچ عوام...

بلوچ شناخت کو شک کی علامت بنا دیا گیا ہے، بلوچ عوام مسلسل ریاستی جبر کا سامنا کر رہے ہیں۔ ڈاکٹر صبیحہ بلوچ

شال (ہمگام نیوز) بلوچ یکجہتی کمیٹی کی مرکزی رہنما ڈاکٹر صبیحہ بلوچ نے کہا ہے کہ سکیورٹی کے نام پر پورے ملک میں بلوچ شناخت کو شک کی علامت بنا دیا گیا ہے۔ جہاں کہیں بھی بلوچ آباد ہیں، ڈیرہ غازی خان، کراچی یا بلوچستان میں، وہ مسلسل منظم ریاستی جبر کا سامنا کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں بلوچ شہریوں کو ڈرون حملوں اور فضائی کارروائیوں کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، جبکہ کراچی میں نسلوں سے آباد بلوچ برادریوں کو بڑھتی ہوئی ہراسانی، چھاپوں اور کارروائیوں کا سامنا ہے۔ ماڑی پور، لیاری اور دیگر بلوچ آبادی والے علاقوں میں مسلسل چھاپے اور آپریشن جاری ہیں، اور بہت سے لوگوں کو جبری طور پر لاپتا کیا جا رہا ہے۔

بلوچستان میں حالیہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے تناظر میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کی سوشل میڈیا مہم کے بارے میں انہوں نے کہا کہ مہم کا مقصد ان زیادتیوں پر چھائی خاموشی کو توڑنا، متاثرہ خاندانوں کی آواز کو بلند کرنا، اور کراچی میں جبری گمشدگیوں اور ظلم و ستم کی جانب توجہ مبذول کرانا ہے۔

انہوں نے کہا کہ میں سب سے اپیل کرتی ہوں کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کی اس مہم میں شامل ہوں اور اس ظلم کے خلاف اپنی آواز بلند کریں۔

مزید کہا کہ زندہ رہنے کا حق ہر انسان کا بنیادی حق ہے۔ جبری گمشدگیوں کا خاتمہ کیا جائے۔ سکیورٹی کو بلوچ عوام پر ظلم و ستم اور ان کی تباہی کے جواز کے طور پر استعمال کرنا بند کیا جائے۔

یہ بھی پڑھیں

فیچرز