Homeخبریںبلوچستان میں دو افراد جبری لاپتہ، پانچ بازیاب

بلوچستان میں دو افراد جبری لاپتہ، پانچ بازیاب

شال(ہمگام نیوز) بلوچستان میں جولائی اور اگست 2026 کے دوران کوئٹہ سے دو نوجوانوں، شعیب بلوچ اور محمد نصیر بلوچ، کے جبری لاپتہ ہونے کی اطلاعات ملیں۔ اسی عرصے میں پنجگور اور چاغی کے پانچ دیگر افراد کو لاپتہ کرنے کے بعد ان کی بازیابی بھی رپورٹ ہوئی ہے۔

تفصیلات کے مطابق شعیب بلوچ ولد محمد آصف بلوچ، عمر 19 سال، رہائشی کلی الماس، ایئرپورٹ روڈ کوئٹہ، کو 4 اگست 2026 کی صبح تقریباً 4 بجے گھر سے جبری طور پر لاپتہ کیا گیا۔

اسی طرح محمد نصیر بلوچ ولد عبدالنبی، عمر 23 سال، رہائشی کیچی بیگ کوئٹہ اور پیشے کے اعتبار سے ڈرائیور، کو 18 جولائی 2026 کی رات تقریباً ساڑھے 12 بجے گھر سے جبری طور پر لاپتہ کیا گیا۔

دوسری جانب پانچ افراد کی بازیابی بھی رپورٹ ہوئی ہے۔ لطیف ولد حاجی سلیم، سکنہ پروم، پنجگور، کو 20 جون کو لاپتہ کیا گیا تھا اور وہ 18 اگست 2026 کو کوئٹہ کے ٹیکسی اسٹینڈ سے بازیاب ہوئے۔

صدیق ولد رسول جان، سکنہ پروم، پنجگور، کو 26 جون کو لاپتہ کیا گیا تھا، جن کی 18 اگست کو پروم، پنجگور سے بازیابی ہوئی۔

نصرت خان ولد خان محمد، رہائشی پروم، پنجگور، کو 2 مئی 2026 کو لاپتہ کیا گیا تھا اور وہ 18 اگست کو کوئٹہ سے بازیاب ہوئے۔

اسی طرح سید نظام شاہ ولد سید غیاث اور اظہر اللہ حق ولد عبدالحکیم، سکنہ چاغی، دونوں کو 4 اگست 2026 کو لاپتہ کیا گیا تھا۔ دونوں کی 19 اگست کو دالبندین سے بازیابی ہوئی۔

واضح رہے کہ بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ متعدد کیسز ریاستی دباؤ، خوف اور دیگر وجوہات کے باعث رپورٹ نہیں ہو پاتے، جبکہ بعض افراد کئی ماہ یا سالوں تک لاپتہ رہنے کے بعد بازیاب ہوتے ہیں۔

متاثرہ خاندانوں کے مطابق بعض بازیاب افراد کو خاموش رہنے اور اپنے ساتھ پیش آنے والے واقعات کے بارے میں بات نہ کرنے کی دھمکیاں بھی دی جاتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

فیچرز