اصفہان(ہمگام نیوز ) اصفہان سینٹرل جیل میں ایک بلوچ قیدی کو پھانسی دے دی گئی ذرائع کے مطابق، 9 ستمبر 2026 کی صبح ایک بلوچ قیدی کی سزائے موت پر عمل درآمد کیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق پھانسی پانے والے قیدی کی شناخت 40 محمد یوسف عیسیٰ زہی (ریگی) ولد یعقوب کے نام سے ہوئی ہے۔ شادی شدہ اور پانچ بچوں کے والد تھے اور ایرانی مقبوضہ بلوچستان کے شہر ایرانشہر کے علاقے چاہ جمال کے رہائشی تھے۔

مختلف ذرائع وش کی رپورٹس کے مطابق محمد یوسف کو 2022 میں اصفہان میں منشیات سے متعلق ایک مقدمے میں گرفتار کیا گیا تھا۔ بعد ازاں اصفہان کی عدالت نے انہیں سزائے موت سنائی تھی۔

ذرائع کے مطابق محمد یوسف کو پھانسی سے قبل تین مرتبہ سزائے موت پر عمل درآمد کے لیے جیل کی انفرادی قید کی کوٹھڑی میں منتقل کیا گیا، تاہم ہر مرتبہ سزا پر عمل درآمد کیے بغیر انہیں دوبارہ عام وارڈ میں منتقل کر دیا گیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ محمد یوسف نے دورانِ قید قرآن کریم حفظ کیا تھا۔ آخری مرتبہ انہیں انفرادی قید میں منتقل کیے جانے کے بعد اصفہان سینٹرل جیل میں ان کی سزائے موت پر عمل درآمد کر دیا گیا۔

دستیاب اعداد و شمار کے مطابق 2025 کے دوران ایران کی مختلف جیلوں میں کم از کم 137 بلوچ قیدیوں کی سزائے موت پر عمل درآمد ریکارڈ کیا گیا۔ یہ پھانسیاں ایران کی 27 مختلف جیلوں میں دی گئیں۔

اعداد و شمار کے مطابق زاہدان جیل میں سب سے زیادہ 34 بلوچ قیدیوں کو پھانسی دی گئی۔

رپورٹ کے مطابق 137 افراد میں سے:

– 94 افراد (68.6 فیصد) کو منشیات سے متعلق الزامات میں پھانسی دی گئی۔

– 36 افراد (26.3 فیصد) قتل کے الزام میں پھانسی دیے گئے۔

– 4 افراد (2.9 فیصد) کو سیاسی یا مذہبی نوعیت کے الزامات میں پھانسی دی گئی۔

– 2 افراد (1.5 فیصد) کو جنسی زیادتی کے الزام میں پھانسی دی گئی۔

– 1 شخص (0.7 فیصد) کی پھانسی کی وجہ نامعلوم رہی۔

انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق ایران میں بلوچ قیدیوں سمیت مختلف اقلیتی برادریوں کے افراد کو سزائے موت دیے جانے کا سلسلہ مسلسل جاری ہے، جبکہ بعض مقدمات میں شفاف عدالتی کارروائی، مناسب قانونی نمائندگی اور دیگر قانونی تقاضوں سے متعلق خدشات بھی سامنے آتے رہے ہیں۔