زاہدان/ تہران

 انسانی حقوق کی تنظیم ہینگاو کے مطابق اگست 2026 کے دوران ایران کی مختلف جیلوں میں 89 قیدیوں کی سزائے موت پر عمل درآمد کیا گیا، جن میں 6 سیاسی اور مذہبی قیدی بھی شامل ہیں۔

ہینگاو کے مطابق یہ تعداد گزشتہ ماہ کے مقابلے میں 33 فیصد، یعنی 22 کیسز زیادہ ہے۔ جولائی 2026 میں ایران کی مختلف جیلوں میں 67 قیدیوں کو پھانسی دی گئی تھی۔

ہینگاو کے مرکز برائے شماریات و دستاویزات میں درج اعداد و شمار کے مطابق اگست 2026 کے دوران ایران بھر کی مختلف جیلوں میں 89 قیدیوں کو پھانسی دی گئی۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ ان میں سے 88 قیدیوں کی مکمل شناخت کی تصدیق ہوچکی ہے، جبکہ ایک قیدی کی شناخت ابھی زیرِ تحقیق ہے۔

چھ خواتین کو بھی پھانسی دی گئی

رپورٹ کے مطابق اگست 2026 کے دوران ایران کی جیلوں میں 6 خواتین کو بھی پھانسی دی گئی۔ ان تمام خواتین کو قتل کے الزام میں سزائے موت دی گئی۔

ہینگاو کے مطابق ان خواتین میں:

– مہتاب شیرمحمدی، تبریز

– مرضیہ نیری، قزوین

– دنیا محمدی، ایلام

– فاطمہ کماک زارع، کرج

– زہرا عزیزپور، اردبیل

– آرزو رستاد، اصفہان

شامل ہیں۔ ان کی سزائے موت پر بالترتیب یاسوج، قزوین، ایلام، کرج، رشت اور اصفہان کی جیلوں میں عمل درآمد کیا گیا۔

ہینگاو کے مطابق اگست کے دوران ایران کی جیلوں میں ایسے کسی بچے کو پھانسی نہیں دی گئی جس نے جرم 18 سال سے کم عمر میں کیا ہو۔

بیشتر پھانسیاں سرکاری طور پر ظاہر نہیں کی گئیں

ہینگاو کا کہنا ہے کہ اگست میں پھانسی دیے گئے 89 قیدیوں میں سے صرف 8 کیسز، یعنی مجموعی تعداد کے 9 فیصد کی اطلاع ایرانی سرکاری ذرائع ابلاغ یا عدلیہ سے وابستہ ویب سائٹس نے دی۔

رپورٹ کے مطابق 11 قیدیوں کو خفیہ طور پر پھانسی دی گئی، جبکہ ان کے اہل خانہ کو آخری ملاقات کا حق یا مناسب اطلاع نہیں دی گئی۔ مزید دو قیدیوں کو سرعام پھانسی دی گئی۔

چھ سیاسی قیدیوں کو پھانسی

ہینگاو کے مطابق گزشتہ ماہ 6 سیاسی قیدیوں کو پھانسی دی گئی۔ ان میں دسمبر 2025 کے احتجاجی مظاہروں کے دوران گرفتار افراد اور 40 روزہ جنگ کے دوران گرفتار کیے گئے افراد شامل تھے۔ ان پر محاربہ، اسرائیل کے لیے جاسوسی اور دیگر الزامات عائد کیے گئے تھے۔

ہینگاو کے مطابق ان کی تفصیلات یہ ہیں:

1. آروین خیرخواہان، عمر 20 سال، جو دسمبر 2025 کے احتجاج کے دوران گرفتار ہوئے تھے، کو 1 اگست 2026 کو شاہرود کی مرکزی جیل میں پھانسی دی گئی۔

2. پوریا صفوت، ترک سیاسی قیدی اور ارومیہ کے رہائشی، کو اسرائیل کے لیے جاسوسی کے الزام میں 3 اگست 2026 کو ارومیہ کی مرکزی جیل میں پھانسی دی گئی۔

3. امید بہزاد، کرد طالب علم اور ارومیہ کے رہائشی، کو اسرائیل کے لیے جاسوسی کے الزام میں 3 اگست 2026 کو ارومیہ کی مرکزی جیل میں پھانسی دی گئی۔

4. شہرام صادقی، جو دسمبر 2025 کے احتجاج کے دوران گرفتار ہوئے تھے، کو 15 اگست 2026 کو صوبہ البرز کی ایک جیل میں پھانسی دی گئی۔

5. قائم حسینی، 20 سالہ افغان شہری اور دسمبر 2025 کے احتجاج کے دوران گرفتار ہونے والے افراد میں شامل تھے، کو 20 اگست 2026 کو اصفہان کی مرکزی جیل میں پھانسی دی گئی۔

6. مجید آدینہ، جو دسمبر 2025 کے احتجاج کے دوران گرفتار ہوئے تھے، کو 23 اگست 2026 کو صوبہ البرز کی ایک جیل میں پھانسی دی گئی۔

پھانسیوں کی وجوہات

ہینگاو کے اعداد و شمار کے مطابق اگست 2026 میں سب سے زیادہ پھانسیاں منشیات سے متعلق جرائم کے الزام میں دی گئیں۔

– منشیات سے متعلق جرائم: 42 قیدی، 48 فیصد

– قتل عمد: 39 قیدی

– سیاسی، مذہبی اور جاسوسی کے الزامات: 6 قیدی

– مسلح ڈکیتی: 2 قیدی

نسلی اور قومی اقلیتوں کے لحاظ سے اعداد و شمار

ہینگاو کے مطابق اگست 2026 میں پھانسی دیے جانے والے قیدیوں میں مختلف قومی اور نسلی گروہوں سے تعلق رکھنے والے افراد بھی شامل تھے۔

– فارس: 22

– ترک: 17

– کرد: 13

– لر: 7

– گیلک اور مازندرانی: 7

– بلوچ: 6

– عرب: 1

– افغان شہری: 4

– نسلی شناخت کی تصدیق نہیں ہوسکی: 12

رپورٹ کے مطابق پھانسی دیے گئے 89 قیدیوں میں 22 فارسی قیدی شامل تھے، جو مجموعی تعداد کا تقریباً 25 فیصد بنتے ہیں۔

مختلف صوبوں کی جیلوں میں پھانسیوں کی تعداد

ہینگاو کے مطابق اگست 2026 میں سب سے زیادہ پھانسیاں صوبہ اصفہان کی جیلوں میں ریکارڈ کی گئیں، جہاں 11 قیدیوں کو پھانسی دی گئی۔ مجموعی طور پر 20 صوبوں میں سزائے موت پر عمل درآمد کیا گیا۔

صوبہ وار تفصیلات:

– اصفہان: 11

– خراسان رضوی: 10

– البرز: 8

– سمنان: 7

– فارس، اردبیل اور مشرقی آذربائیجان: 6، 6، 6

– گیلان اور خوزستان: ہر ایک علاقے میں پانچ پانچ

– لرستان: 4

– ایلام، مغربی آذربائیجان، بلوچستان، زنجان اور کہگیلویہ و بویراحمد: ہر ایک میں تین تین کو پھانسی دے دی گئی

– مازندران: 2

– یزد، کردستان، قم اور قزوین: ان تمام علاقوں سے ایک ایک قیدی کو پھانسی دے دی گئی ۔

ہینگاو کے مطابق اگست 2026 کے یہ اعداد و شمار ایران میں سزائے موت کے بڑھتے ہوئے استعمال کی نشاندہی کرتے ہیں، جبکہ بڑی تعداد میں پھانسیوں کی سرکاری سطح پر اطلاع نہ دیے جانے کے باعث اصل تعداد اس سے زیادہ بھی ہوسکتی ہے۔