Homeخبریںایرانشہر میں بلوچ ماں گرفتار، بیٹے کو عدالت میں پیش کرنے کے...

ایرانشہر میں بلوچ ماں گرفتار، بیٹے کو عدالت میں پیش کرنے کے لیے دباؤ ڈالنے کا الزام

ایرانشہر( ہمگام نیوز ) ایرانی مقبوضہ بلوچستان کے شہر ایرانشہر(پہرہ) میں ایک بلوچ خاتون کو اس کے زیرِ تعاقب بیٹے کو عدالتی حکام کے سامنے پیش ہونے پر مجبور کرنے کے لیے گرفتار کرکے جیل منتقل کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔

تفصیلات کے مطابق، پیر 28 ستمبر 2026 کو 46 سالہ بلوچ خاتون شہناز کردی کو ان کے بیٹے کے مقدمے کے سلسلے میں عدالتی حکام کی جانب سے ایرانشہر کی عدالت میں طلب کیا گیا، جہاں پیشی کے بعد انہیں گرفتار کرکے جیل منتقل کر دیا گیا۔

ذرائع کے مطابق شہناز کردی دختر پیربخش، چھ بچوں کی والدہ اور ایرانشہر کے سجادشہر علاقے کی رہائشی ہیں۔

ذرائع کے مطابق یہ گرفتاری 19 اگست 2026 کو ایرانشہر کے سجادشہر علاقے میں دو خاندانوں کے درمیان ہونے والے قبائلی تنازع سے متعلق مقدمے کے سلسلے میں عمل میں آئی۔ اس جھگڑے کے دوران فائرنگ کے نتیجے میں راہگیر شخص علی اصغر پلنگی اور عنایت اللہ ابراہیمی ہلاک ہوگئے تھے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ واقعے کے بعد دونوں مقتولین کے اہلخانہ نے جھگڑے میں ملوث افراد کے خلاف شکایات درج کرائیں، جس کے بعد مقدمے سے متعلق متعدد افراد کو گرفتار کیا گیا۔

اطلاعات کے مطابق شہناز کردی کا ایک بیٹا بھی اس مقدمے کے سلسلے میں مطلوب ہے، تاہم اسے تاحال گرفتار نہیں کیا جا سکا۔

ذرائع نے بتایا کہ شہناز کردی کو عدالتی طلبی کا نوٹس موصول ہونے کے بعد وہ اپنی 14 سالہ بیٹی کے ہمراہ عدالت پہنچیں، تاہم عدالت میں پیش ہونے کے بعد انہیں گرفتار کر لیا گیا۔

ذرائع کے مطابق خاتون کی گرفتاری اس وقت عمل میں آئی جب ان کا بیٹا تاحال مفرور ہے۔ خاندان کا مؤقف ہے کہ شہناز کردی کو ان کے بیٹے کو خود کو عدالتی حکام کے سامنے پیش کرنے پر مجبور کرنے کے لیے حراست میں لیا گیا ہے۔

ذرائع نے مزید بتایا کہ عدالت میں پیشی کے وقت شہناز کردی کی 14 سالہ بیٹی بھی ان کے ہمراہ تھی، تاہم والدہ کی گرفتاری کے بعد حکام نے اسے وہاں سے باہر بھیج دیا۔

موصولہ اطلاعات کے مطابق شہناز کردی بیوہ اور چھ بچوں کی کفیل ہیں اور خاندان کی کفالت اور دیکھ بھال کی تمام ذمہ داریاں خود نبھاتی ہیں۔

خاندان نے شہناز کردی کی گرفتاری کے طریقہ کار اور ان کے بیٹے سے متعلق مقدمے کی ذمہ داری ان پر عائد کیے جانے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں

فیچرز