ہمگام واچ
30 ستمبر 2022 کا دن زاہدان اور ایرانی مقبوضہ بلوچستان کی اجتماعی یادداشت میں ایک ایسے دن کے طور پر ثبت ہو چکا ہے جسے محض ایک احتجاجی واقعہ کہہ کر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ جمعہ کی نماز کے بعد زاہدان میں ہونے والی خونریزی نے درجنوں خاندانوں کو سوگ میں مبتلا کیا تھا ، سینکڑوں افراد کو زخمی کیا اور ایران نے بربریت کی وہ مثال قائم کر دی جو کہ تاریخ کے چند صفحات پر بیان کرنا ناممکن ہوگا ۔ زاہدان کے خونی جمعہ نے ثابت کر دیا کہ قابض ایران کے ہاتھوں بلوچ نسل کشی بدستور جاری ہے ۔
اس واقعے کو بعد میں “جمعہ خونین” یا “بلوڈی فرائیڈے” کے نام سے یاد کیا جاتا ہے ۔
یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا جب ایران بھر میں مہسا ژینا امینی کی پولیس حراست میں موت کے بعد قابض ایرانی ملا رجیم کی وحشت و درندگی کے خلاف احتجاج جاری تھے۔ زاہدان میں جمع ہونے والے افراد میں ایسے لوگ بھی شامل تھے جو ایک 15 سالہ بلوچ لڑکی کے ساتھ چابہار کے قابض ایرانی پولیس سربراہ کی مبینہ جنسی زیادتی کے معاملے کے خلاف سراپا احتجاج تھے ان بلوچ مظاہرین کے اندر ایرانی حکومت کی درندگی کے خلاف غم و غصہ پایا جاتا تھا ۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق 30 ستمبر کو نماز جمعہ کے بعد مظاہرین، راہگیروں اور عبادت گزاروں پر قابض ایرانی دہشتگرد فورسز نے براہ راست گولیاں، دھاتی چھرے اور آنسو گیس استعمال کی۔
اس دن بلوچ مظاہرین پر امن طریقے سے اپنے احتجاج ریکارڈ کرنا چاہتے ہیں ، پہلے سے تیار قابض ایرانی دہشتگرد اور کودک کش فوج اور دیگر فورسز نے بلوچ مظاہرین اندھا دھند فائرنگ کر دی حالانکہ وہ نہتے تھے لیکن قابض ایران نے ثابت کر دیا کہ بلوچ اور ایران کا رشتہ صرف غلام اور آقا کا ہے ، فارسی نسل پرست قاجار نسل کے سپاہیوں نے 30 ستمبر کو وہ وحشت دکھائی جو کہ صدیوں سے نسل پرست قاجار اور دیگر فارسی شہنشاہوں کے درمیان بلوچ قوم کے ساتھ جاری ہے ۔
اس جمعہ خونین کے بعد قابض ایرانی قاجار حکمرانوں کا ہمیشہ سے وطیرہ رہا ہے کہ بلوچوں کی قتل و غارتگری کے بعد بھی الزام بلوچوں پر ڈال کر تمام واقعات کا زمہ دار بھی مظلوم و غلام قوم پر ڈال دیا جائے ۔
جمعہ خونین کے دن یعنی 30 ستمبر 2022 کو قابض ایرانی دہشتگرد فورسز نے بلا اشتعال براہ راست فائرنگ شروع کر دیا جس کے نتیجے میں اسی وقت 103 بلوچ مظاہرین شہید ہوگئے جبکہ 300 سے زائد زخمی ہوگئے ۔ اس بربریت کے قابض ایران کا ہمیشہ ایک مقصد و منشا رہا ہے اس نے شہید ہونے والوں بلوچوں کی اصل تعداد کو دنیا کے سامنے چھپا کر انہیں 13 سے 20 بتایا جبکہ حقیقت اس کے برعکس تھی ۔ مقامی ذرائع سے حاصل ہونے والے رپورٹس اور خبروں کے مطابق 103 بلوچ اسی وقت شہید ہوچکے تھے ۔
جمعہ خونین کے فوراً بعد اور اس کے بعد کی تحقیقات میں عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں نے ایک بنیادی مطالبہ دہرایا: مہلک طاقت کے استعمال کی آزادانہ، شفاف اور مؤثر تحقیقات اور ذمہ داروں کا احتساب کیا جائے ۔ لیکن کیا کسی غلام ریاست پر ہونے والے مظلوموں کی نسل کشی کا تحقیقات کیا جائے گا ؟
عالمی اداروں کے یہ ایسے مطالبات ہیں کہ وہ یہ جانتے ہوئے کہ ایران کسی کو خاطر میں نہیں لاتا وہ جو چاہے اپنے مقبوضہ ریاستوں کے عوام کے ساتھ کر گزرتا ہے ۔ یہ مطالبات ایسے ہیں جیسے مظلوم و مقہور عوام کے زخموں پر نمک پاشی کے مترادف ہے ۔ *عالمی اداروں اداروں کو چاہیے ایران سمیت پاکستان میں موجود ان ریاستوں کو مقبوضہ قرار دے کر ان کے حق میں ہر فورم پر آواز اٹھائے تب ہی ان کے ساتھ انصاف ہوگا ۔*
جمعہ خونین کا سب سے اہم سوال صرف یہ نہیں کہ کتنے لوگ مارے گئے۔ اصل سوال یہ ہے کہ ہر بلوچ کو یہ ادراک ہونا چاہیے کہ بلوچستان ایک مقبوضہ ریاست ہے اور اس قبضہ گیریت کے خلاف ہر بلوچ کو اپنے تئیں اپنا حق ادا کرنا چاہیے ۔
جمعہ خونین کی چوتھی برسی کے موقع پر فری بلوچستان موومنٹ سمیت بلوچ سیاسی تنظیموں نے اس واقعے کو بلوچ قومی حقوق اور سیاسی جدوجہد کے وسیع تر تناظر میں پیش کیا ہے۔ فری بلوچستان موومنٹ کا مؤقف ہے کہ 30 ستمبر 2022 کا واقعہ بلوچ سیاسی شعور میں ایک اہم علامت بن چکا ہے اور بلوچ قوم کو اپنی سیاسی آزادی اور حقوق کے لیے جدوجہد جاری رکھنی چاہیے۔














