مستونگ ( ہمگام نیوز) معروف براہوئی ادیب، شاعر اور ڈگری کالج مستونگ کے سابق پرنسپل پروفیسر صالح محمد شاد غیر قانونی حراست اور مبینہ تشدد کے بعد شہید ہوگئے۔
ذرائع کے مطابق گزشتہ سال اگست میں پروفیسر صالح محمد شاد کو آٹھ دیگر رشتہ داروں کے ہمراہ قابض پاکستانی فورسز اور سی ٹی ڈی نے مبینہ طور پر حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کیا تھا۔ بعد ازاں انہیں زخمی حالت میں کوئٹہ کے ٹراما سینٹر منتقل کیا گیا۔
قریبی ذرائع کے مطابق حراست کے دوران مبینہ شدید تشدد کے باعث ان کی صحت بری طرح متاثر ہوئی اور وہ طویل عرصے تک بیماری کا سامنا کرنے کے بعد جانبر نہ ہوسکے۔
پروفیسر صالح محمد شاد کا شمار براہوئی زبان کے معروف ادیبوں اور شاعروں میں ہوتا تھا۔ وہ ڈگری کالج مستونگ کے سابق پرنسپل رہ چکے تھے جبکہ ان کی متعدد ادبی و شعری تصانیف بھی شائع ہوچکی ہیں، جن میں ’گروک غزلیات‘، ’ہنین خرین‘ اور ’کلام شاد‘ شامل ہیں۔
صالح محمد شاد شہید وحید بلوچ کے والد جبکہ شہید سلمان، شہید صلاح الدین، بی ایس او آزاد کے سابق رہنما فضل بلوچ، بی آر ایس او کے سابق چیئرمین ایڈووکیٹ چیف عطاء اللہ بلوچ اور ایڈووکیٹ نجیب بلوچ کے چچا تھے۔
ان کی شہادت پر مختلف سیاسی، ادبی اور سماجی حلقوں کی جانب سے گہرے رنج و غم کا اظہار کیا گیا ہے۔


