شال ( ہمگام نیوز ) مقبوضہ بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے خلاف وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز (وی بی ایم پی) کے زیرِ اہتمام کوئٹہ پریس کلب کے سامنے قائم احتجاجی کیمپ 6378ویں روز بھی جاری رہا۔
وی بی ایم پی کے چیئرمین نصراللہ بلوچ نے کہا کہ شبیر بلوچ کو 4 اکتوبر کو آواران سے سیکیورٹی فورسز کے ہاتھوں جبری طور پر لاپتہ کیے جانے کو آج 10 سال مکمل ہوگئے ہیں۔ اس دوران ان کے لواحقین نے اپنے پیارے کی باحفاظت بازیابی کے لیے عدلیہ اور حکومت کے دروازے کھٹکھٹانے کے ساتھ مسلسل پرامن احتجاج کیا، لیکن تاحال انہیں انصاف اور شبیر بلوچ کے بارے میں کوئی قابلِ اعتماد معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔
انہوں نے کہا کہ جبری گمشدگی صرف ایک فرد کو اس کے بنیادی حقوق سے محروم نہیں کرتی بلکہ اس کے پورے خاندان کو طویل عرصے تک ذہنی اذیت، بے یقینی اور کرب میں مبتلا رکھتی ہے۔ انصاف میں تاخیر انصاف سے محرومی کے مترادف ہے، اس لیے جبری لاپتہ افراد کے مقدمات میں مزید تاخیر قابلِ قبول نہیں۔
نصراللہ بلوچ نے مطالبہ کیا کہ شبیر بلوچ سمیت تمام جبری لاپتہ افراد کو فوری طور پر بازیاب کیا جائے۔ اگر کسی شخص پر کوئی الزام یا مقدمہ ہے تو اسے قانون کے مطابق عدالت کے سامنے پیش کرکے شفاف عدالتی کارروائی کا موقع دیا جائے۔ حکومت اور متعلقہ ادارے آئینِ پاکستان میں شہریوں کو حاصل بنیادی حقوق، قانون کی حکمرانی اور آئینی تقاضوں کو یقینی بناتے ہوئے جبری گمشدگیوں کا خاتمہ اور لواحقین کو انصاف فراہم کریں۔


