Homeخبریںجالق میں پولیس کمانڈ ہیڈکوارٹر پر مسلح حملہ، جبهه مبارزین مردمی نے...

جالق میں پولیس کمانڈ ہیڈکوارٹر پر مسلح حملہ، جبهه مبارزین مردمی نے ذمہ داری قبول کرلی

گلشن(ہمگام نیوز ) ایرانی مقبوضہ: بلوچستان کے ضلع گلشن کے شہر جالق میں پولیس کمانڈ ہیڈکوارٹر پر گزشتہ شب ہونے والے مسلح حملے کی ذمہ داری جبهه مبارزین مردمی نامی تنظیم نے قبول کر لی ہے۔

تفصیلات کے مطابق، یہ حملہ 7 اکتوبر 2026 کی شب جالق شہر میں واقع گلشن کاؤنٹی کے پولیس کمانڈ ہیڈکوارٹر پر کیا گیا۔ تنظیم نے 8 اکتوبر 2026 کو جاری کیے گئے ایک بیان میں حملے کی ذمہ داری قبول کرنے کا اعلان کیا۔

تنظیم کے بیان کے مطابق، اس کے مسلح افراد نے فراجا (ایرانی پولیس) کے کمانڈ ہیڈکوارٹر کو نشانہ بنایا اور حملے کے دوران بارودی سرنگ اور آر پی جی راکٹ استعمال کیے گئے۔ بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ہیڈکوارٹر کے کمانڈر کو لے جانے والی گاڑی داخلے کے وقت نشانہ بنی، جبکہ ہیڈکوارٹر میں موجود اہلکاروں پر بھی فائرنگ کی گئی۔

جبهه مبارزین مردمی نے مزید دعویٰ کیا ہے کہ حملے کے دوران پولیس کے چھ اہلکار نشانہ بنے۔ تاہم ان دعوؤں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی۔

اس سے قبل ذرائع کو موصول ہونے والی ایک ویڈیو میں جالق شہر میں پولیس کمانڈ ہیڈکوارٹر کے سامنے جھڑپ کے ابتدائی لمحات دکھائی دیے تھے۔ ویڈیو میں شدید فائرنگ کی آوازیں سنی جا سکتی ہیں۔ اس مقام پر امدادی کارروائی کے لیے بھیجی گئی گاڑیوں میں شامل ایک ٹویوٹا ہائی لکس بھی دکھائی دیتی ہے، جسے مقامی ذرائع کے مطابق مسلح افراد نے فائرنگ کا نشانہ بنایا۔

 رپورٹس کے مطابق جھڑپ شروع ہونے کے بعد پولیس اور فوجی اہلکاروں کی متعدد گاڑیاں مدد کے لیے علاقے میں پہنچیں، تاہم کم از کم ایک ہائی لکس گاڑی کو پولیس ہیڈکوارٹر کے قریب نشانہ بنایا گیا۔ گاڑی میں سوار اہلکاروں کی صورتحال اور مجموعی جانی نقصان کی درست تعداد تاحال آزادانہ طور پر معلوم نہیں ہو سکی۔

دوسری جانب ایرانی سرکاری میڈیا نے واقعے کے بارے میں مختلف اطلاعات نشر کیں۔ خبر رساں ادارے تسنیم نے ابتدا میں جالق میں راکٹ حملے کی خبر کی تصدیق کی، تاہم چند منٹ بعد اس خبر کی تردید کر دی۔ بعد ازاں سرکاری ذرائع ابلاغ نے پولیس کمانڈ ہیڈکوارٹر کے علاقے میں جھڑپ کی اطلاع دیتے ہوئے متعدد مسلح افراد کے ہلاک اور زخمی ہونے کا

دعویٰ کیا۔

یہ بھی پڑھیں

فیچرز