شال ( ہمگام نیوز ) بلوچ یکجہتی کمیٹی (BYC) کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین رپورٹ کے مطابق
بلوچستان میں جبری گمشدگیوں اور ماورائے عدالت قتل کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ ، سیکیورٹی فورسز نے نوشکی کے مختلف علاقوں سے تین نوجوانوں کو حراست میں لے کر جبری لاپتہ کر دیا ہے، جبکہ واشک کے علاقے میں ایک اور شہری کو انسانی حقوق کی پامالی کا نشانہ بناتے ہوئے ماورائے عدالت قتل کر دیا گیا ہے۔
بی وائی سی کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق محمد عادل ولد محمد وارث( عمر 17 سال)پیشہ ٹرک کنڈکٹر اور ساکنہ قاضی آباد، نوشکی۔ انہیں 7 اکتوبر 2026 کی دوپہر ایک بجے نوشکی میں زمزمہ ہوٹل کے قریب ایف سی چیک پوسٹ سے حراست میں لے کر لاپتہ کیا گیا۔
اس طرح شے مرید جمالدینی ولد احمد نواز( عمر 23 سال)، ساکنہ کلی بتو، نوشکی۔ انہیں 9 اکتوبر 2026 کی صبح 9 بجے ان کے گھر سے فرنٹیئر کور (FC) کے اہلکاروں نے حراست میں لیا۔
ترجمان کے مطابق
خان ولد پیر بخش ( عمر 19 سال)، پیشہ مزدور، ساکنہ قاضی آباد، نوشکی۔ انہیں 8 اکتوبر 2026 کی رات 3 بجے گھر پر چھاپے کے دوران ایف سی، آئی ایس آئی اور سی ٹی ڈی کے مشترکہ دستوں نے جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا۔
بی وائی سی ترجمان کے جاری رپورٹ مطابق شکراللہ بلوچ کو 7 ستمبر 2026 کو سی پیک (CPEC) روڈ واشک پتک سے پاکستانی فوج کی جانب سے حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کیا گیا تھا۔
دس دن تک زیرِ حراست اور شدید ذہنی و جسمانیtorture سیل میں رکھنے کے بعد، 17 ستمبر 2026 کو ان کی تشدد زدہ لاش سی پیک روڈ کے قریب سے برآمد ہوئی۔
شکراللہ بلوچ ایک غریب اور پرامن شہری تھے جو محنت مزدوری سے اپنے خاندان کا پیٹ پال رہے تھے۔ ان کے خاندان کو طویل اذیت اور ذہنی کرب میں رکھنے کے بعد لاش حوالے کی گئی۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی نے اس بڑھتے ہوئے ریاستی جبر، ماورائے عدالت قتل اور جبری گمشدگیوں کے پے در پے واقعات پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے عالمی اداروں (بشمول اقوام متحدہ، ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ہیومن راٹس واچ) سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بلوچستان میں انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کا نوٹس لیں اور پاکستانی حکومت کو ان غیر قانونی اقدامات کے لیے جوابدہ بنائیں۔


