کوئٹہ(ہمگام نیوز ) وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے احتجاجی کیمپ میں جبری لاپتہ محمد سدیس کے والد محمد اشرف نے دیگر لواحقین کے ہمراہ چیئرمین نصراللہ بلوچ کی موجودگی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ ان کے بیٹے محمد سدیس کو رواں سال 19 اور 20 مئی کی درمیانی شب مدرسہ روڈ، کلی اسماعیل سے تفتیش کے بہانے حراست میں لینے کے بعد نامعلوم مقام پر منتقل کرکے جبری طور پر لاپتہ کردیا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ محمد سدیس کی جبری گمشدگی کا کیس کمیشن میں زیرِ سماعت تھا اور آج ان کی پیشی مقرر تھی، تاہم کمیشن کے سامنے سی ٹی ڈی نے ایک رپورٹ جمع کرائی، جس میں دعویٰ کیا گیا کہ محمد سدیس کو 20 اگست کو اغبرگ میں سکیورٹی فورسز کے ساتھ ایک مقابلے میں دیگر پانچ افراد سمیت ہلاک کیا گیا اور ان کی لاش تدفین کے لیے ایدھی کے حوالے کردی گئی۔
محمد اشرف نے کہا کہ ان کے بیٹے کو گھر سے ان کی آنکھوں کے سامنے حراست میں لینے کے بعد جبری طور پر لاپتہ کیا گیا اور بعد ازاں مبینہ جعلی مقابلے میں ماورائے عدالت قتل کرکے لاش بھی دفن کردی گئی۔ انہوں نے اس واقعے کو آئین، قانون اور بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا کہ واقعے کی شفاف اور غیر جانب دارانہ تحقیقات کرائی جائیں، ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے اور ان کے بیٹے کی لاش کی حوالگی یقینی بنائی جائے۔
اس موقع پر وی بی ایم پی کے چیئرمین نصراللہ بلوچ نے محمد سدیس کی مبینہ ماورائے عدالت ہلاکت پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر کسی شخص پر کوئی الزام ہو تو آئین اور قانون کے مطابق اسے عدالت میں پیش کرنا اور اسے صفائی کا پورا موقع دینا ریاست کی ذمہ داری ہے۔ کسی شخص کو پہلے جبری طور پر لاپتہ کرنا اور بعد میں مقابلے میں ہلاک کیے جانے کی اطلاع دینا ایک نہایت سنگین معاملہ ہے، جس کی آزادانہ تحقیقات ضروری ہیں۔
نصراللہ بلوچ نے مطالبہ کیا کہ محمد سدیس کی حراست، گمشدگی، مبینہ مقابلے میں ہلاکت اور تدفین سے متعلق تمام حقائق سامنے لائے جائیں، واقعے کی عدالتی یا آزادانہ تحقیقات کرائی جائیں، ذمہ دار اہلکاروں کا تعین کرکے ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے اور محمد سدیس کی لاش کی شناخت، تدفین کے ریکارڈ اور متعلقہ شواہد کی تصدیق کے بعد لاش ورثا کے حوالے کی جائے تاکہ خاندان اپنے مذہبی اور انسانی حق کے مطابق تدفین کے مراحل مکمل کرسکے۔
انہوں نے کہا کہ جبری گمشدگیوں اور ماورائے عدالت ہلاکتوں کے واقعات کا تدارک آئین و قانون کی بالادستی، شفاف احتساب اور متاثرہ خاندانوں کو انصاف کی فراہمی کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ متعلقہ حکام اس معاملے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے لواحقین کو انصاف فراہم کریں۔


