Homeخبریں18 اکتوبر کو چاغی دوگنان میں بی ایل اے کے خلاف آپریشن...

18 اکتوبر کو چاغی دوگنان میں بی ایل اے کے خلاف آپریشن کیلیے آنے والے قابض پاکستانی فوج کے 10 اہلکار مارے گئے، دو سرمچار شہید ہوگئے۔ ترجمان آزاد بلوچ

شال (ہمگام نیوز ) بلوچ لبریشن آرمی کے ترجمان آزاد بلوچ نے اپنے پریس ریلیز میں کہا ہے کہ بی ایل اے اور قابض پاکستانی فوج کے مابین 18 اکتوبر کو چاغی کے مقام دوگنان میں ہونے والی ایک طویل لڑائی کے دوران دشمن کے 10 اہلکاروں کو ہلاک کرنے کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں۔

 بلوچ وطن کا دفاع کرتے ہوئے بی ایل اے کے دو بہادر جانباز سرمچار سنگت جاوید عرف ملنگ اور سنگت کمال خان عرف صدام بلوچ نمیران ہوگئے۔

تفصیلات کے مطابق 18 اکتوبر کی صبح چھ بجے کے وقت قابض پاکستانی فوج نے بی ایل اے کے ٹھکانوں پر حملہ کیا، جس کے جواب میں بی ایل اے نے جنگی حکمت عملی اپناتے ہوئے دشمن کے خلاف مورچے سنبھالے۔ اپنے سرمچاروں اور مقامی بلوچ آبادیوں کا دفاع کرتے ہوئے ہمارے سرمچاروں نے دشمن کی زمینی فوج پر چھوٹے اور بڑے ہتھیاروں سے جوابی کارروائی کا آغاز کیا۔ دشمن کو افرادی اور جدید ہتھیاروں سے لیس ہونے کے باوجود بی ایل اے کے ہاتھوں بھاری جانی و مالی نقصانات سے دوچار ہونا پڑا۔ زمینی شکست کے بعد قابض فوج نے فضائی کمک طلب کی۔ انہیں زمینی سطح پر دور مار مارٹر گولوں اور توپ خانے کی بھی مدد حاصل تھی، لیکن ہمارے سرمچار دشمن کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بن کر مقابلہ کرتے رہے۔ اس اثنا میں دشمن کی مدد کے لیے ڈرون بھی علاقے میں ہمارے ساتھیوں پر حملوں کے لیے پہنچ گئے۔ قابض پاکستانی فوج نے علاقے کی عام آبادی پر بھی اندھا دھند گولے برسائے۔

صبح چھ بجے سے شام سات بجے تک جاری اس لڑائی کے دوران ہمارے دو بہادر سرمچار ساتھی نمیران ہوگئے۔ دونوں ساتھیوں نے بہادری سے لڑتے ہوئے اپنے خون کے آخری قطرے تک ساتھیوں اور کیمپ کا دفاع کیا۔ ان نڈر اور عظیم سرمچاروں میں سنگت جاوید عرف ملنگ ڈرون حملے کی زد میں آکر شہید ہوگئے۔ انہوں نے 2025 میں بی ایل اے میں شمولیت اختیار کی تھی۔ دالبندین سے تعلق رکھنے والے سنگت جاوید نے کئی معرکوں میں قابض پاکستانی فوج کو کاری ضربیں لگائیں۔

نرمک سے تعلق رکھنے والے سنگت کمال خان عرف صدام بلوچ نے بھی اپنے ہم سنگر ساتھی کے ہمراہ بہادری سے لڑتے ہوئے اپنے دیگر ساتھیوں کو محفوظ رکھا۔ طویل لڑائی کے دوران ان کے پاس گولیاں ختم ہوگئیں۔ آخری گولی کے فلسفے پر کاربند رہتے ہوئے دشمن کے سامنے سرنڈر ہونے کے بجائے فخریہ شہادت کو ترجیح دی۔ سنگت کمال خان 2022 سے بی ایل اے کے پلیٹ فارم پر عملی جدوجہد میں سرگرم تھے۔ انہوں نے بلوچستان کے بولان، ناگاہو، سوران، نرمک، منگچر، قلات سمیت دیگر علاقوں میں قومی خدمات انجام دیں۔ وہ ایک بہادر، دلیر اور جنگی مہارتوں سے لیس سرمچار تھے۔

بلوچ لبریشن آرمی اپنے دونوں عظیم ساتھیوں سنگت نمیران کمال خان عرف صدام اور سنگت نمیران جاوید عرف ملنگ کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے اس عہد کو دہراتی ہے کہ بلوچستان کی مکمل آزادی اور قابض فورسز کی بلوچ سرزمین سے انخلا تک ہماری جنگ مزید شدت اور بلا رکاوٹ جاری

رہے گی۔

یہ بھی پڑھیں

فیچرز