زاہدان (ہمگام نیوز) ایرانی مقبوضہ بلوچستان کے شہر ساسولی میں سرحدی چوکی سے فائرنگ کے نتیجے میں نوجوان شہید ، خاش زاہدان شاہراہ پر سوختبری کرنے والا شہری حادثے میں جاں بحق، زاہدان میں زخمی شہری 65 روز بعد دم توڑ گیا، 15 سالہ لاپتہ نوجوان مل گیا۔
ساسولی، خاش، زاہدان (29 اکتوبر 2026): ایرانی مقبوضہ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں پیش آنے والے واقعات میں تین بلوچ شہری جاں بحق ہوگئے، جبکہ زاہدان سے لاپتہ ہونے والا 15 سالہ بلوچ نوجوان رپورٹ شائع ہونے کے چند گھنٹوں بعد مل گیا۔
تفصیلات کے مطابق ایرانی مقبوضہ بلوچستان کے ضلع ہیرمند کے علاقے ساسولی میں سرحدی چوکی سے مبینہ فائرنگ کے نتیجے میں ایک 24 سالہ بلوچ نوجوان شہید ہوگیا۔
ذرائع کے مطابق جاں بحق نوجوان کی شناخت زیبر ساسولی ولد عبداللہ کے نام سے ہوئی ہے، جو گاؤں ساسولی کا رہائشی تھا۔
رپورٹ کے مطابق بدھ، 28 اکتوبر 2026 کو شام تقریباً ساڑھے چار بجے زیبر اپنے گھر سے نکلنے کے بعد گاؤں ساسولی کی سرحدی چوکی نمبر تین پر تعینات اہلکاروں کی فائرنگ کا نشانہ بنے۔ گولی ان کے سر میں لگی، جبکہ مقامی ذرائع کے مطابق فائرنگ چوکی پر موجود نگران نے سیمینوف رائفل سے کی۔
رپورٹ کے مطابق واقعے کے بعد زیبر کی لاش ان کے اہل خانہ کے حوالے نہیں کی گئی اور خاندان لاش کی حوالگی کے لیے کوششیں کر رہا ہے۔
مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ اسی چوکی سے فائرنگ کے سابقہ واقعات میں تین افراد شہید اور ایک شخص شدید زخمی ہوچکا ہے۔ تاہم ان واقعات میں متاثر ہونے والے افراد کی شناخت اور تفصیلات کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی۔
رپورٹ کی تیاری تک فائرنگ کی وجوہات اور واقعے پر متعلقہ حکام کا کوئی بیان سامنے نہیں آیا تھا۔
اس کے علاوہ تفتان میں خاش سے زاہدان جانے والی شاہراہ پر گاڑی الٹنے کے حادثے میں ایک بلوچ سوختبر جاں بحق ہوگیا۔
ذرائع کے مطابق جاں بحق شہری کی شناخت محمد تقی لال محمدی ناروئی ولد مولوی محمود کے نام سے ہوئی ہے۔ ان کی عمر تقریباً 36 سال تھی، وہ شادی شدہ اور چار بچوں کے والد تھے اور ضلع خاش کے رہائشی تھے۔
رپورٹ کے مطابق بدھ، 28 اکتوبر 2026 کو ان کی گاڑی خاش، زاہدان شاہراہ پر گاؤں کہنوک کے قریب الٹ گئی، جس کے نتیجے میں وہ جانبر نہ ہوسکے۔
ذرائع کے مطابق محمد تقی سوختبری کے ساتھ ساتھ تبلیغِ جماعت کی مذہبی سرگرمیوں میں بھی حصہ لیتے تھے۔
حادثے کی وجوہات اور گاڑی الٹنے کے حالات سے متعلق مزید تفصیلات دستیاب نہیں ہوسکیں۔
مزید برآں ایرانی مقبوضہ بلوچستان کے شہر زاہدان میں نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے زخمی ہونے والا ایک بلوچ شہری 65 روز تک اسپتال میں زیر علاج رہنے کے بعد دم توڑ گیا۔
ذرائع کے مطابق جاں بحق شہری کی شناخت اسماعیل ریگی گنگوزہی ولد اللہ بخش کے نام سے ہوئی ہے۔ ان کی عمر 36 سال تھی اور وہ ضلع تفتان کے گاؤں چاہ احمد کے رہائشی تھے۔
رپورٹ کے مطابق پیر، 24 اگست 2026 کو رات ساڑھے بارہ بجے کے قریب اسماعیل ریگی گنگوزہی اپنے علاقے میں ذاتی گاڑی میں گل محمد حسن زہی کے ساتھ موجود تھے کہ نامعلوم مسلح افراد نے ان پر فائرنگ کردی۔
فائرنگ کے نتیجے میں تقریباً 38 سالہ گل محمد حسن زہی موقع پر جاں بحق ہوگئے، جبکہ اسماعیل ریگی گنگوزہی کے سر میں گولی لگی اور انہیں زاہدان کے خاتم الانبیاء اسپتال منتقل کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق اسماعیل 65 روز تک انتہائی نگہداشت کے شعبے میں زیر علاج رہے، تاہم بدھ، 28 اکتوبر 2026 کو رات 9 بج کر 20 منٹ پر زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے۔
تاحال حملہ آوروں کی شناخت، فائرنگ کے محرکات اور دونوں شہریوں کو نشانہ بنانے کی وجوہات معلوم نہیں ہوسکی ہیں۔
دریں اثنا زاہدان سے لاپتہ ہونے والا 15 سالہ بلوچ نوجوان یاسین براهویی، اس کی گمشدگی کی خبر شائع ہونے کے چند گھنٹوں بعد مل گیا۔
رپورٹ کے مطابق نوجوان کی شناخت یاسین براهویی ولد ظاہر کے نام سے ہوئی ہے، جو زاہدان کے علاقے شیرآباد کا رہائشی ہے۔
رپورٹ کے مطابق یاسین منگل، 27 اکتوبر 2026 کو دوپہر تقریباً ڈیڑھ بجے گھر سے نکلا تھا، لیکن واپس نہیں پہنچا۔ اس کے اہل خانہ کو اس کی خیریت اور موجودگی کے بارے میں تشویش لاحق تھی۔
ذرائع کی جانب سے گمشدگی کی خبر شائع ہونے کے چند گھنٹوں بعد شہریوں نے خاندان سے رابطہ کرکے نوجوان کے ملنے کی اطلاع دی اور اسے تلاش کرنے کے لیے معلومات کی فراہمی میں تعاون کیا۔
اس طرح یاسین کے ملنے کے بعد اس کے اہل خانہ کی تشویش دور ہوگئی۔


